خطبات محمود (جلد 5) — Page 114
خطبات محمود جلد (5) ۱۱۴ سے کر لیتا ہے کہ اسے کسی قسم کا دکھ محسوس ہی نہیں ہوتا ۔ مگر بہت انسان ایسے ہیں جو سوچتے نہیں اور اس بات کی فکر نہیں کرتے ۔ حضرت مظہر جان جاناں کی نسبت لکھا ہے کہ کوئی شخص ان کے پاس تحفہ کے طور پر کچھ لڈولا یا۔ انہوں نے ان میں سے دو اٹھا کر اپنے ایک مرید کو دیئے اس نے کھا لئے ۔ جب وہ شخص چلا گیا تو وہ اس سے پوچھنے لگے کہ وہ لڈو کہاں ہیں اس نے کہا کہ میں نے تو کھا لئے ۔ فرمایا کیا دونوں کھا لئیے ۔ اس نے کہا ہاں دونوں کھا لئیے ۔ آپ بار بار یہی سوال کرتے اور وہ یہی جواب دیتا۔ آخر اس نے کہا کیا لڈو کھانے کی کوئی اور ترکیب تھی۔ جو آپ مجھ سے بار بار یہی پوچھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ ہاں ۔ اس نے کہا کہ مجھے بتائی جاوے۔ فرمایا۔ کسی دن بتائیں گے ۔ ایک دن پھر جو کوئی شخص لڈولا یا۔ تو آپ نے ان میں سے ایک اٹھا کر کہا کہ آؤ تمہیں بتاؤں کس طرح لڈو کھانا چاہئیے لڈو لے کر انہوں نے اپنے آگے رکھ لیا اور اس سے ایک ذرا سا لیکر خدا کی حمد اور تقدیس بیان کرنا شروع کر دی۔ کہ خدا نے مظہر جان جاناں کے لئے اس کو اتنے آدمیوں کے ذریعہ بنا ، ذریعہ بنایا ہے۔ سب انسانوں کو گنتے اور خدا کا شکر بجالا کر بہت چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں ڈالتے ۔ اسی طرح کرتے کرتے ظہر سے عصر کی نماز کے لئے اذان ہوگئی ۔ آپ اٹھ کر نماز پڑھنے چلے گئے اور لڈو وہیں پڑا رہا۔ اس سے انہوں نے یہ بتایا ہے کہ انسان ہر وقت کھاتا پیتا ہے مگر اس کا دل کبھی شکر گزار ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور نہیں گرتا۔ گو انسان کے لئے ہر روٹی کا لقمہ اور ہر پانی کا گھونٹ اللہ تعالیٰ کی آیت ہے جس کا اسے شکر گزار ہونا چاہیے لیکن وہ گلاس پر گلاس پیتا اور روٹی پر روٹی کھاتا ہے مگر خیال بھی نہیں کرتا کہ خدا نے اس پر کس قدر فضل اور رحم کیا ہوا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سب انتظام کھانے پینے کا اسے خود نہیں کرنا پڑتا۔ اگر وہ خود کرتا تو پانی کا ایک گھونٹ اور روٹی کا ایک لقمہ بھی اس سے تیار نہ ہو سکتا۔ غرض جماعت کے کاموں اور تقسیم عمل میں بڑی بڑی برکات ہوتی ہیں ۔ پچھلے خطبہ جمعہ میں میں نے بتایا تھا۔ کہ کامیابی کے لئے ان راہوں کو اختیار کرنا ضروری ہے جو خدا تعالیٰ نے انسانوں کی کامیابی اور ترقی کے لئے مقرر فرمائی ہیں اور ان کے اختیار کئے بغیر کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ کوئی انسان ہاتھ پر روٹی رکھے رہنے کی وجہ سے کبھی سیر نہیں ہو سکتا۔ اور پانی کا گلاس پکڑے رکھنے سے اس کی پیاس نہیں بجھ سکتی ۔