خطبات محمود (جلد 4) — Page 59
خطبات محمود جلد ۴ ۵۹ سال ۱۹۱۴ء ہوں تو کیا ان کو ہلاک کیا جاوے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نہیں ۔ ہمیں آدمی بھی اگر ہوں گے تو ان کو ہلاک نہ کیا جاوے گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا کہ اگر دس آدمی ہی مل سکیں اور زیادہ نہ مل سکیں تو کیا یہ ہلاک کر دیئے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں ۔ اگر دس آدمی مومن بھی اس بستی میں ہوں گے تو یہ بستی ہلاک نہ ہو گی ہے ۔ حضرت ابراہیم نے تو سمجھا ہوگا کہ دس آدمی تو ضرور ہی اس میں ہوں ہوگی گے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ ۳ ضرور ایک گھر مسلمانوں مومنوں کا اس بستی میں ملا۔ دو تین آدمی تھے اس لئے وہ بستی ہلاک کر دی گئی ۔ تو معلوم ہوا کہ اگر ایک بڑی بستی میں دس مومن بھی رہتے ہوں تو وہ بستی عذاب سے محفوظ رہے گی ۔ حضرت لوط تو صرف ایک بستی کی طرف بھیجے گئے تھے لیکن ہمارے سردار اور آقا نبی کریم صلی السلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو ساری دنیا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہاں پچاس آدمی ہی کم از کم ایسے ہوں جو راتوں کو اُٹھ کر دعا ئیں کریں۔ خدا تعالیٰ کے قانون میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہاں اگر پچاس آدمی ہی ایسے ہوں جو دعا کریں تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس عذاب سے بچالے گا۔ ل البقرة : ۲۲ تا ۲۵ پیدائش باب ۱۸ آیت ۲۳ تا ۳۲ ( مفهوما ) التريت: الفضل یکم اپریل ۱۹۱۴ء)