خطبات محمود (جلد 4) — Page 52
خطبات محمود جلد ۴ ۵۲ سال ۱۹۱۴ء مومنوں کی حالت احزاب کے موقع پر بڑی خطرناک تھی۔ وہ کئی کئی دن فاقہ میں گزار دیتے تھے اور باوجود فاقہ کشی کے ان کو دشمن سے لڑنا پڑتا تھا۔ حدیثوں میں آیا ہے کہ ایک رات جبکہ بہت سخت سردی تھی تو نبی کریم صلی السلام نے فرمایا کہ کوئی ہے جو دشمن کی خبر لا وے تو اس وقت کسی کو جرات نہ ہو سکی کہ نکل کر دشمن کی خبر لاوے۔ اس وقت کپڑوں کی بھی مسلمانوں کو تنگی تھی۔ سارے یہی سمجھتے تھے کہ کسی کا نام تو لیا نہیں اس لئے سوائے ایک کے اور کوئی نہ بولا ۔ دوبارہ حضور صلی ای ایم نے کہا کوئی ہے جو دشمن کی خبر لاوے۔ تب پھر وہی آدمی بولا ۔ پھر سہ بارہ فرمانے پر بھی وہی آدمی بولا ۔ آپ نے اسے فرمایا۔ جاؤ جا کر دیکھ آؤ کہ دشمن کی کیا حالت ہے ۔ وہ گیا تو اس نے دیکھا کہ میدان خالی پڑا ہے اور وہاں کوئی فرد بشر نہیں ہے۔ ان کے بھاگنے کا عجیب معاملہ ہوا ۔ اسی دن ایسی سخت ہوا چلی کہ ایک سردار کی آگ بجھ گئی ۔ آگ بجھنے کو عرب لوگ برا سمجھتے ہیں اور ان کا خیال تھا کہ جس کی آگ بجھ گئی وہ گو یا ہار گیا ۔ وہ بھاگا تو اس کے ساتھ والوں نے سمجھا کہ معلوم نہیں کیا آفت پڑی ہے کہ یہ بھاگا ہے، وہ بھی بھاگ گئے ۔ اسی طرح تمام لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر بھاگ گئے ۔ ابوسفیان ایسا گھبرایا کہ اسے اونٹ کی رسی کھولنی یاد نہ رہی اور اس پر سوار ہو گیا۔ اور تمام لوگ راتوں رات بھاگ گئے اے یہ اس وقت کے متعلق پیشگوئی تھی ۔ اس موقع پر ایک خندق کھودی گئی جو کہ سلمان فارسی کے بتلانے پر نبی کریم صلی شما لی ایم نے حکم دیا کہ خندق کھودی جائے۔ اس کے پھر ٹکڑے تقسیم کر دیئے گئے کہ فلاں ٹکڑے پر فلاں فلاں آدمی کام کریں اور فلاں پر فلاں ۔ جو ٹکڑ اسلمان اور ان کے ساتھیوں کے سپر د تھا اس میں ایک بڑا پتھر نکلا جسے وہ توڑ نہ سکے تو نبی کریم صلی السلام کو عرض کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ لاؤ کدال مجھے دو ۔ میں توڑتا ہوں ۔ آپ نے پھر اس پر ایک زور سے کدال ماری یہ قاعدہ ہے کہ لوہا اور پتھر ٹکرائیں تو ان میں سے آگ نکلتی ہے تو اس پتھر میں سے ایک آگ نکلی ۔ تو نبی کریم صلی السلام نے فرمایا کہ قیصر کا ملک فتح ہو گیا۔ پھر کدال ماری۔ تو دوبارہ آگ نکلنے پر فرمایا کسری کا ملک فتح ہو گیا۔ پھر آپ نے زور سے تکبیریں کہیں ۔ منافق ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ کھانے اور پہنے کو کچھ ملتا نہیں ہے اور رہنے کی جھونپڑیاں تک بھی میسر نہیں ہیں اور خواہیں ملکوں کی ۔ صحابی نے رسول کریم صلی السلام سے پوچھا کہ آپ تکبیریں کیوں کہتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے کسری و قیصر کے ملک دکھائے گئے ہیں کہ وہ فتح ہو گئے ہیں ۲۔ اس مصیبت میں