خطبات محمود (جلد 4) — Page 516
خطبات محمود جلد - ۴ ۵۱۶ سال ۱۹۱۵ خدا تعالیٰ کی شکایت نہیں کی۔ اور ان کو کبھی ایسی ایسی لغو باتوں پر ابتلاء نہیں آیا جیسا کہ اس وقت بعض لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ فلاں بات پر ہمیں ابتلاء آ گیا۔ چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص قادیان میں آیا کوئی شخص اس کے پاس دوڑتا ہوا گزرا تو اسے گہنی لگ گئی اس بات پر اس کو ابتلاء آ گیا اور کہنے لگا۔ کیا حضرت مسیح موعود کے ایسے ہی مرید ہیں۔ پھر بعض ایسے بھی ہوتے ہیں اگر ایک وقت روٹی نہ ملے یا جلی ہوئی مل جائے یا چار پائی ہی نہ ملے تو جھٹ ان کو ابتلاء آ جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہر زمانہ میں ہوتے ہیں آنحضرت صلی السلام کے وقت بھی ایسے انسان موجود تھے لیکن بہت ہی کم ۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک جنگلی نے آنحضرت صلی لا الہ سلم کی بیعت کی۔ کچھ دنوں بعد اسے بخار ہو گیا تو وہ نبی کریم صلی السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میری بیعت واپس کر دیں کیونکہ مجھے تپ آ گیا ہے ہے ۔ مگر بر خلاف اس کے ایسے ایسے بھی لوگ تھے جن کے قصے سن کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک شخص کا ذکر احادیث میں آتا ہے۔ قرآن کریم میں بغیر نام ۵ کے اس کا ذکر آیا ہے حضرت نبی کریم صلی السلام جب تبوک کو تشریف لے گئے تو تمام صحابہ نے جانے واسطے تیاری کی اور گھوڑے اونٹ تیار کئے لیکن اس شخص نے یہ خیال کیا کہ میں مالدار ہوں جب جانے کا وقت ہو گا تو جھٹ پٹ تمام تیاری کر لی جائے گی اور گھوڑے اونٹ وغیرہ خرید لئے جائیں گے اسی تیاری میں وہ دن آگیا کہ آپ تبوک کو رخصت ہوئے تب اسے خیال آیا کہ جلدی کوئی انتظام کرنا چاہئیے کیونکہ آپ رخصت ہو گئے ہیں۔ مگر انتظام کرتے کرتے معلوم ہوا کہ آپ دور نکل گئے ہیں۔ پس جب اس نے دیکھا کہ اب آپ سے ملنا مشکل ہے تو ارادہ کر لیا کہ جب آپ واپس تشریف لائیں گے تو ایسی مشکلات بیان کروں گا جن کے سبب سے آپ مجھ کو معذور خیال فرماویں گے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں واپس تشریف لائے تو وہ سب لوگ جو مدینہ میں پیچھے رہ گئے معذرت کیلئے آئے اور ہر ایک نے کوئی نہ کوئی معذوری اپنے متعلق بیان کر دی ۔ آنحضرت صل الا السلام نے ان سب کیلئے دعا کی لیکن وہ شخص کہتا ہے کہ جس وقت میں آنحضرت مالا ما السلام کے سامنے گیا تو وہ تمام غذر جو میں نے دل میں گھڑے تھے دل کے دل ہی میں رہے اور کچھ بھی بیان نہ کر سکا۔ آخر مجھے کہنا پڑا یا رسول مجھے میرے نفس نے دھوکا دیا تھا تو آپ نے اس کے واسطے دعا نہ کی ۔ وہ کہتا ہے کہ جب میں آپ کے پاس سے اٹھا تو بعض لوگوں نے کہا کہ تو نے غذر کیوں نہ کیا، دیکھا آپ تجھ سے ناراض ہو گئے ۔ اس پر کہتا تھے اللہ ! صب