خطبات محمود (جلد 4) — Page 41
خطبات محمود جلد - ۴ ۴۱ سال ۱۹۱۴ء مثال دے کر سمجھایا کہ کسان سمجھتا ہے کہ میرا اس بادل سے فائدہ ہے تو وہ اپنی زمین کیلئے جلد جلد سامان تیار کرتا ہے اور پانی کو روکنے کا انتظام کرتا ہے۔ لیکن جو بے سمجھ زمیندار ہو وہ اپنی زمین کے بند توڑ دیتا ہے کہ پانی اس کی زمین میں نہ ٹھہرے۔ بعض سمجھدار تو ہوتے ہیں لیکن وہ بجلی سے ڈرتے ہیں۔ اس لئے باہر نہیں نکلتے اور اپنی زمین کا انتظام نہیں کرتے حالانکہ کڑک سے پہلے وہ بجلی گر چکی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے والله محیط بِالكَفِرِينَ فرمایا ان سے مت ڈرو ! ہم ان کو تباہ کر دیں گے۔ ڈرے تو کوئی اس سے جس کے بچ جانے کا اندیشہ ہو لیکن ہم نے ان کو تباہ ہی کر دینا ہے تو تم پھر ان سے کیوں ڈرتے ہو۔ خدا کی باتیں تو ہو کر رہتی ہیں ۔ کانوں میں انگلیاں ڈالنے سے کیا فائدہ ۔ غرض ان دو مثالوں میں علمی اور عملی منافقوں کی حالت کا نقشہ دکھایا ہے۔ پہلوں کو تو صم بكم عمرؓ فرمایا ہے کیونکہ ان میں ایمان ہی نہیں۔ اور دوسروں کیلئے يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ آیا۔ کیونکہ ان کی آنکھوں میں نور تو ہے مگر وہ اس سے کام نہیں لیتے ۔ انہوں نے اگر اپنی آنکھوں سے کام نہ لیا تو جس طرح اگر کسی عضو سے کام نہ لیا جاوے تو وہ بیکار ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی ان کی آنکھیں اچک لی جائیں گی اور بے کار کر دی جائیں گی اور ان کی بینائی مار دی جائے گی۔ مومن کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے ۔ اور گھبرانا نہ چاہیئے ۔ مومن کی اللہ تعالیٰ خود مدد کرتا ہے۔ پچھلے وقتوں میں تو صرف کمزور آدمی ہی نفاق کرتے تھے لیکن اب اس وقت میں بڑے بڑے بھی نفاق کرتے ہیں۔ اس لئے بہت خطرناک وقت ہے۔ تم مومن بنو اور ایسی باتوں سے بچو کو رہنا چاہئے۔ اللہ سے بچو کیونکہ مومن کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو محفوظ رکھے۔ البقرة : ١٨ تا ٢١ الفضل ۲۵ فروری ۱۹۱۴ء) بخاری کتاب المرضى باب عيادة المريض راكبا وما شيا سیرت ابن هشام عربی جلد ۳ صفحه ۶۸ مطبع مصطفى البابي الحلبي مصر ١٩٣٦ء