خطبات محمود (جلد 4) — Page 469
خطبات محمود جلد ۴ ٤٦٩ (۸۶) ہر صادق نبی پر ایک ہی قسم کے اعتراضات کئے جاتے ہیں (فرموده ۱۵ اکتوبر ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی :۔ وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ كَذلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَيَّنَا الْآيَتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ اس کے بعد فرمایا:۔ ہر زمانہ میں حق کے مخالف ایک ہی رنگ کے ہوتے ہیں۔ اور یہ قدیم سے سنت چلی آئی ہے کہ جس قسم کے اعتراضات ایک صادق نبی پر کئے جاتے ہیں اسی قسم کے دوسرے صادق پر بھی کئے جاتے ہیں ۔ جس قسم کے اعتراضات حضرت نبی کریم صلی سلیم پر ہوئے اسی قسم کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی ہوئے ہیں۔ مخالفین کو جب ہم یہ کہتے ہیں کہ تم پہلے صادقوں اور نبیوں کی طرح حضرت صاحب پر اعتراض کرتے ہو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ان کو نبیوں سے مشابہت دیتے ہو، حالانکہ صادق کے مقابلہ میں صادق کی مثال دی جاتی ہے اور شریر اور بدمعاش کے مقابلہ میں اس قسم کے آدمی کی مثال دی جاتی ہے۔ صلى الله عل وسام پس صادقوں کی مثالیں صادقوں کے ساتھ ہی دی جائیں گی اس وقت کوئی صداقت نبی کریم ﷺ کے بغیر ثابت نہیں ہو سکتی ۔ ہر صداقت کو ثابت کرنے کیلئے آپ کے معیار صداقت سے باہر نہیں جا سکتے ۔ ہماری جماعت کا ایک حصہ جو ان عقائد کو ترک کر رہا ہے جن پر ہم قائم ہیں اور جن کے بارے میں ہم نے خود حضرت مسیح موعود سے بار ہا تقریریں سنی ہیں