خطبات محمود (جلد 4) — Page 411
خطبات محمود جلد ۴ ۴۱۱ سال ۱۹۱۵ رکھنا چاہئیے کہ ایسا سوال اٹھانے پر فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ کا فتویٰ صادر ہوگا ۔ آنحضرت صلی السلام فرماتے ہیں کہ مسیح موعود حكمًا ہوگا یعنی مختلف فیھا مسائل میں فیصلے دے گا اور عدلا ہوگا یعنی جو فیصلہ دے گا وہ عدل و انصاف سے دے گا کے کیا اگر مسیح موعود کے وہ فیصلے جو الہام کے سوا آپ نے کئے ہیں ماننے ضروری نہیں ہیں اور ان کا ہی ماننا ضروری ہے جو الہام سے ہوں تو آنحضرت صل السلام نے کہاں خدا تعالیٰ کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ وہ عدل کے فیصلے دے گا کیا نَعُوذُ باللہ خدا مسیح موعود سے پہلے ظلم کے فیصلے دیا کرتا تھا ؟ ہرگز نہیں۔ پس اس کا مطلب یہ ہے کہ مسیح موعود خود ایسے فیصلے دیا کرے گا جن پر بحث کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی ۔ کیونکہ وہ حکم اور عدل ہو گا اس لئے اس کا ہر ایک فیصلہ عدل اور راستی کے مطابق ہوگا۔ جب آنحضرت صلی ایام فرماتے ہیں کہ مسیح موعود حکما عدلا ہوگا پھر تم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم آپ کی معروف میں اطاعت کریں گے تو اگر تم اس کے خلاف کرو گے تو سمجھ لو کہ کس قدر گناہ کے مرتکب ہو گے یہ کوئی چھوٹا سا معاملہ نہیں قرآن کا فیصلہ ہے کہ وہ انسان مومن ہی نہیں ۔ پس کیسا افسوس ہے اس انسان پر جو کرے تو بدی لیکن اپنے نفس کیلئے اسے نیکی ظاہر کرے۔ اس کی بجائے تو یہ بہتر ہے کہ وہ کہے کہ مسیح موعود کا یہ حکم تو قابل عمل ہے لیکن میرے اندر یہ کمزوری ہے اس لئے میں اس کی پابندی نہیں کر سکتا اگر ایسا نہیں کہتا تو اس کی وجہ سے جتنے لوگ اس فعل کے مرتکب ہوں گے ان کے گناہ کا بوجھ ان کے سر پر ہوگا ۔ خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو سمجھ دے کہ وہ رسول کے سب حکموں کو مانیں ۔ یہ سوال ہمیشہ انہی لوگوں کی طرف سے کیا گیا ہے جن کی فطرتیں گندی ہوتی ہیں ، نہ خلفاء میں سے کسی نے کہا ہے نہ صحابہ کبار میں سے نہ مجددین اور اولیاء کرام میں سے کسی نے کہا ہے اگر یہ سوال اُٹھا ہے تو عبد اللہ چکڑالوی اور اس کی فطرت کے لوگوں کی طرف سے اٹھا ہے مگر اس کی جو کچھ حالت ہے وہ جاننے والے خوب جانتے ہیں۔ خلیفہ لمسیح الاول نے کبھی مسیح موعود سے اس طرح نہیں کہا۔ وہ لوگ جنہوں نے حضرت مولوی صاحب کو دیکھا ہے جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی خشیت، تقویٰ اور پرہیز گاری کس قدر آپ میں تھی۔ لیکن باوجود اس کے آپ ایک دفعہ سفر کو گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو فرمایا کہ فلاں شہر نہ جانا۔ لیکن