خطبات محمود (جلد 4) — Page 378
خطبات محمود جلد ۴ ۳۷۸ سال ۱۹۱۵ء جو اس سے معاملہ تھا وہ رحمانیت اور رحیمیت دونوں صفات کے ماتحت تھا مگر مرنے کے بعد صرف رحیمیت ہی ہوتی ہے۔ چنانچہ زندگی میں کوئی خدا کو گالیاں دے ، رسول کو برا بھلا کہے، خدا تعالیٰ اسے سامان زندگی دیتا ہی رہے گا مگر مرنے کے بعد کا وہ زمانہ جبکہ بویا ہوا کا ٹا جاتا ہے۔ اس لئے گندے اور نا پاک انسان کی موت وہاں بھی موت ہی ہوتی ہے۔ (۲) وہ موت جس سے مرنے والا تو مر جاتا ہے لیکن اس سے دنیا کی زندگی ہوتی ہے، یہ وہ انسان ہوتا ہے جو اپنے نفس میں تو گندا ہوتا ہی ہے لیکن دنیا کو بھی گندا کرنا چاہتا ہے مثلاً ایک ایسا کا فرجود دنیا کو کفر کی تبلیغ کرتا ہے یا ایک ایسا ظالم جو دنیا پر ظلم کرتا ہے یہ جب مرتا ہے تو اس پر موت آجاتی ہے مگر اس سے دنیا کی زندگی ہوتی ہے کیونکہ بہت سے لوگ جو اس کے ذریعہ گند میں مبتلا ہونے والے تھے یا ایسے لوگ جو اس کے ظلم کے نیچے دبے ہوئے تھے ان کی گردنیں آزاد ہو گئیں ۔ (۳) وہ موت ہے جو مرنے والے کی بھی موت ہوتی ہے اور دنیا کی بھی موت ہوتی ہے۔ یہ ایسے شخص کی موت ہوتی ہے جو گو اپنے نفس میں کافر ہوتا ہے مگر دنیا کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے مثلاً ایک کافر شخص ہو اور بڑا موجد سائنس سائنسدان علم ہندسہ ہندسہ جغرافیہ کا جاننے والا ہو یا حکمران ران منصف اور بشر طیکہ کافر ہو جس کی موت سے دنیا کو نقصان پہنچے۔ اور عادل ہو (۴) وہ موت ہے جس سے مرنے وا۔ رنے والے کی زندگی ہوتی ہے اور دنیا کا اس سے کچھ تو ے کچھ تعلق نہیں ہوتا ۔ یہ ایک ایسے مومن کی موت ہے جو الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِہ ۲ کے مطابق ہوتا ہے یعنی اس کی زبان اور ہاتھ کے ضرر سے لوگ محفوظ رہتے ہیں جب ایسا شخص مرتا ہے تو وہ اپنے اعمال کے نیچے مرتا ہے۔ دنیا کے نفع و نقصان سے اس کا تعلق نہیں ہوتا ۔ ان سب موتوں سے بڑھ کر ایک اور موت ہے جو بہت ترقی کرنے والے انسان کو نصیب ہوتی ہے۔ وہ ایسی موت ہوتی ہے کہ مرنے والے کی زندگی ہوتی ہے مگر دنیا کیلئے وہ کی موت ہوتی ہے ۔ یہ ان لوگوں کی موت ہوتی ہے جو دین کے مبلغ اور خدا تعالیٰ کے پیارے اور رسول ہوتے ہیں۔ موت ان کیلئے تو عید ہوتی ہے کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ آج ہم اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر اپنے پیارے کے ہے ہو ہو دنیا پاس کامیاب ہو کر جا رہے ہیں مگر ان کی وفات کا دن دنیا کیلئے ایسا تاریک دن ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی دن نہیں ہو سکتا۔ اس کا ایک نظارہ آنحضرت صلی شما ای ایم کی وفات ہے۔ آپ نے وفات کے وقت فرمایا :۔