خطبات محمود (جلد 4) — Page 367
خطبات محمود جلد ۴ ۳۶۷ سال ۱۹۱۵ء منسوب کرے جو اس نے نہیں کہیں یا اس کا مذہب نہیں کہتا۔ اسی طرح مومن کا فرض ہے اور ہر ایک مومن کا خدا تعالیٰ نے یہ کام مقرر فرمایا ہے اس لئے اسے چاہئیے کہ آریوں ، عیسائیوں ، برہموؤں اور یہودیوں وغیرہ کوئی خوب تبلیغ کرے اور پورے زور سے کرے لیکن مباحثہ میں یہ بات ضرور مد نظر رکھے کہ جھوٹ اور افتراء سے کام نہ لے کیونکہ جو قوم جھوٹ اور افتراء کو استعمال کرتی ہے وہ اپنی شکست کا خود اقرار کرتی ہے۔ گویا وہ یہ مانتی ہے کہ ہمیں اپنے دشمنوں اور مخالفوں میں اب کوئی عیب نظر نہیں آتا ، اس لئے ہم خود ان کیلئے باتیں بناتے ہیں۔ اگر کوئی ایسا مذہب ہے جو جھوٹ کو پھیلاتا اور سچائی کو دباتا ہے تو اس کیلئے افتراء اور جھوٹ کی کیا ضرورت ہے اس میں تو خود بہت سی ایسی باتیں ہوں گی جو اس کے نقائص کی تصدیق کریں گی اور اسے لغوی مذہب قرار دیں گی۔ کہا گیا ہے کہ مبائعین آنحضرت صلی السلام کو خاتم النبین نہیں مانتے۔ لیکن مجھے افسوس آتا ہے ان لوگوں پر جو یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی ا السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور پھر باوجود اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین بھی کہتے ہیں وہ خاتم یعنی مہر ہی کیا ہوئی جو کسی کاغذ پر نہ لگی اور اس نے کسی کاغذ کی تصدیق نہ کی ۔ اسی طرح نبی کریم خاتم النبین کیا ہوئے جب کسی انسان پر آپ کی نبوت کی مہر نہ لگی اور آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوا۔ اگر آپ کی امت میں کوئی نبی نہیں ہے تو آپ خَاتَمَ النَّبين بھی نہیں ہیں اور اگر نبی ہے تب آپ خاتم النبین ہیں ۔ باقی رہا یہ کہ آنحضرت صلی السلام سے کسی کو افضل ماننا، اگر کوئی شخص ایسا عقیدہ رکھتا ہے تو میں اس کے عقیدہ کو لعنتی سمجھتا ہوں ۔ کیونکہ کوئی عزت اور کوئی بڑائی آنحضرت صلی السلام کی فرمانبرداری اور اطاعت کے بجر نہیں مل سکتی۔ دنیا کی عزتیں اور بڑائیاں تو دنیا سے تعلق رکھتی ہیں مگر خدا تعالیٰ کے حضور عزت اس پاک انسان کی کفش برداری، اطاعت و فرمانبرداری کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہو سکتی۔ خواہ وہ مرزا غلام احمد ہی ہو یا اور کوئی شخص ہو۔ صرف آنحضرت صلال ال ایم کی غلامی میں ہی عزت ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں ۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے یہاں حضرت صاحب نے غلام احمد میں نسبت اضافی رکھی ہے۔ پس اگر ہم مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور بعض پہلے نبیوں سے آپ کا رتبہ بلند یقین کرتے ہیں تو اس کے یہ معنی نہیں