خطبات محمود (جلد 4) — Page 352
خطبات محمود جلد - ۴ ۳۵۲ سال ۱۹۱۵ء یا کافر کہنے والوں کو مسلمان سمجھتے ہیں ۔ احمدی جماعت اس لئے کافر کہ ایک حصہ تو مسلمانوں کو کافر کہتا ۔ ہے اور ایک دوسرا حصہ ان کافر کہنے والوں کو مسلمان ہی خیال کرتا ہے۔ اور ان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگاتا۔ اور ایک تیسرا حصہ اس لئے کہ گو وہ احمدی جماعت کے اس حصہ کو تو کافر کہتا ہے جو غیر احمدیوں کو کافر سمجھے لیکن وہ حضرت خلیفہ اول کو جو اس حصہ کو مسلمان سمجھ کر نَعُوذُ بِاللہ کا فر ہو چکے تھے مسلمان سمجھتا ہے نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ۔ میرے دوستو ! خوب یا درکھو تو ی لگانا ہر شخص کا کام نہیں ہے کیونکہ ہر ایک آدمی بار یک مسائل نہیں سمجھ سکتا۔ مسلمانوں کو کافر کہنے والے اور کافر کو کافر نہ سمجھے والے پر کفر کا فتویٰ لگانا آسان ہے لیکن کوئی سوچ کر بتائے کہ پھر مسلمان کون رہ جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو اس مسئلہ پر زور دیا کی ہے تو مانے ہوئے اصول کے مطابق ان پر حجت قائم کی ہے کیونکہ ان کو ان کے کفر کے منوانے کا یہ سیدھا طریق تھا کہ ان کو کہا جاتا تم اپنے عقیدے کے مطابق خود ہی کافر ہو کیونکہ جب ہم اپنے آپ کو مومن سمجھتے ہیں تو تم ہم کو کافر کہنے والے کا فر ہو گئے ہو۔ یہ ایک آسان طریق ان کو کافر کہنے کا تھاور نہ اصل وجہ ان کے کفر کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے انکار کی تھی چنانچہ جہاں آپ نے ان کو مسلمان کہنے کے متعلق ذکر فرمایا ہے وہاں یہ شرط بھی لگا دی ہے بشرطیکہ ان کے ایمان میں نفاق اور شبہ نہ پایا جاوے اور خدا کے کھلے کھلے معجزات کے مکتب نہ ہوں“۔ تو ان کو اصل کفر حضرت مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے ان پر عائد ہوتا تھا پس اس مسئلہ میں حد سے نہیں بڑھنا چاہیے ۔ غیر مبائعین خواہ ہمیں کا فر چھوڑ آفر کہیں اور جوان کا جی چاہے فتوی لگا ئیں اور غیر احمدیوں کو مسلمان کہنے کی خاطر ہمیں کا فرقراردیں لیکن ہم انہیں غیر احمدیوں سے اچھا ہی سمجھتے ہیں اور کافر نہیں مسلمان یقین کرتے ہیں ۔ اس لئے ہم الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَبِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا سے بری ہیں غیر احمدی حضرت مسیح موعود کا انکار کرتے ، آپ کو گالیاں دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں لیکن غیر مبائعین ایسا نہیں کرتے۔ انہوں نے خدا کے ایک فرستادہ کو مانا ہے، خواہ مان کر انہوں نے اس کے درجہ کو گھٹا ،