خطبات محمود (جلد 4) — Page 304
خطبات محمود جلد - ۴ له ولد سال ۱۹۱۵ء تمہیں اور کیا کیا بتائیں۔ تمہاری زبان میں الفاظ تو ہیں نہیں جن سے تمہیں سمجھا دیا جاوے اس لئے ہم تمہیں ایک ہی بات بتا دیتے ہیں اور وہ یہ کہ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ - اللہ بڑے فضلوں والا ہے وہ تمہیں وہ کچھ دے گا جس کے سمجھنے کی بھی اس وقت تمہیں طاقت نہیں ہے۔ کے پس خوب یا درکھو کہ دنیا کی تکلیفوں سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ انسان متقی ہو جائے۔ بہت نادان ہے وہ شخص جو فروع کی طرف دوڑتا ہے اور اصول کو ترک کرتا ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس صرف ایک گلاس پانی کا ہو تو وہ پیاس کے خطرہ سے مطمئن نہیں ہو سکتا کیونکہ اس گلاس کے پی لینے کے بعد جب اسے پیاس لگے گی تو اس کے پاس کچھ نہ ہوگا۔ بلکہ اس کے پیاس سے بچنے کا یہ ذریعہ ہے کہ کنویں کے پاس چلا جائے، پھر اسے پیاس کا کوئی ڈر نہیں رہے گا۔ دیکھو جنگلوں اور بیابانوں میں رہنے والا انسان پانی کی دور دور تلاش کرتا رہتا ہے اور بڑی تکلیف اٹھاتا ہے لیکن جن شہروں میں لوگوں کے گھروں میں نلکے لگے ہوتے ہیں یا کنویں موجود ہوتے ہیں ان کو پانی کے حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی تکلیف نہیں ہوتی ۔ پس دانا انسان کا کام یہ ہے کہ بجائے پانی کا ایک گلاس اپنے پاس رکھنے کے چشمہ کو تلاش کر کے اس کے پاس بیٹھے اور بجائے ایک دو پھلوں کو تلاش کرنے کے پھلدار درخت کی تلاش کرے۔ لوگ سکھ اور آرام حاصل کرنے کے لئے مختلف تدبیریں کرتے ہیں۔ کوئی علم پڑھتا ہے، کوئی دولت جمع کرتا ہے، کوئی عزت حاصل کرنے کی فکر میں رہتا ہے، کوئی ہنر سیکھتا ہے اور کوئی کسی اور طریقہ سے آرام حاصل کرنا چاہتا ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ دنیا کے سکھ اور دُکھ ہزاروں قسم کے ہیں ان کیلئے انسان اپنی کوشش سے کامیاب نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک انسان ایک ہنر اور پیشہ اس لئے سیکھتا ہے کہ میں اس کی وجہ سے تکالیف سے بچ جاؤں گا لیکن کل اس پیشہ میں مرورزمانہ کی وجہ سے کوئی ایسا نقص پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ چلتا نہیں مثلاً پہلے زمانہ میں کپڑا بننے کا ہنر سیکھا جاتا تھا جو بہت عمدہ بھی تھا لیکن اب مشینوں کے نکل آنے کی وجہ سے وہ باطل ہو گیا ہے اور ہندوستان کے لاکھوں جو لاہوں کا کام رک گیا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ مشینوں کا مقابلہ جو لا ہے کہاں کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح دیکھو طب ایسا پیشہ تھا جس کے بدلنے کا کسی کو خیال بھی نہ تھا مگر اب اس میں بھی نقص پیدا ہو گیا ہے۔ ہندوستان میں یونانی طب تھی جب اس سے بڑھ کر ڈاکٹری آگئی تو اب اسے کوئی پوچھتا بھی تو کوئی