خطبات محمود (جلد 4) — Page 285
خطبات محمود جلد - ۴ ۲۸۵ سال ۱۹۱۵ء دعویٰ ہوتا ہے تو گا ہے وحی ولایت کا اقرار ہے۔ شخصیت نہ ہوتی تو صرف یہ کافی تھا کہ میں مجدد ہوں ، مہدی ہوں مسیح ہوں ہلہم ہوں ۔ پھر یہی شخص آگے چل کر لکھتا ہے ۔ قیامت میں تمہارا شفیع محمد مصطفے احمد مجتبی دو صلی السلام ہوگا۔ نہ مرزا ہو گا نہ محمود ہوگا ۔ بھیڑ کی دم پکڑ کر دریا عبور کرنا چاہتے ہو۔ پھر لکھتا ہے اس مسیح یعنی مرزا صاحب نے تثلیث و صلیب کی خوب کسر کی کہ تثلیث کی بھی پگر دادا گمراہی ان کے مرنے کے بعد نکل آئی۔ یہ باتیں لکھنے والا بھی اس جماعت کے امیر کا مخلص ہے اور اس مخلص کا خط احمد یہ انجمن اشاعت اسلام کے رسالہ المہدی میں چھپتا ہے جس میں وہ لکھتا ہے۔ مسلمانوں نے اسلام کا عاشق محمد کا عاشق سمجھ کر خادم اسلام سمجھ کر مرزا صاحب کو قبول کیا ہے جب یہ قلعی کھلی کہ یہ تو در پردہ محمد سے بڑی دشمنی کی گئی ہے، اُس کی عزت عظمت حرمت خاک میں ملائی گئی ہے تو ایک دم مسلمان چونک پڑیں گے۔ پھر اسی رسالہ المہدی کا ایڈیٹر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت لکھتا ہے۔ کیا چند الہامات اور کشوف اور غیب کی خبروں سے جو صرف اس کی اپنی ہی ذات یا متعلقین یا چند دیگر اشخاص یا حوادث کے متعلق ہیں وہ محمد رسول اللہ صلی الا السلام جیسا نی ہو گیا۔ کثرت كلمة “ آگے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنحضرت صلی السلام جیسا نبی ہونے کے متعلق لکھتا ہے ۔ تم کیوں اس کے کامل پیر و حضرت غلام احمد کو نبی کہ کر محمد صل ال السلام کی ہتک کرتے ہو۔ نادانو ! اگر امتی نبی نبی ہوتا تو اس کو نبی کہنا کیوں نبوت کاملہ تامہ محمد یہ کی ہتک ہوتا ۔ پھر لکھتا ہے اب میں عرض کرتا ہوں کہ کیا مسیح موعود کو اگلے انبیاء کی طرح کا نبی مان کر قرآن کی تکذیب کرو گے یا تصدیق ۔ آخر کیا کرو گے۔ کچھ تو بتلاؤ ۔“ پھر لکھتا ہے سو ہر جگہ ہر کتاب اور ہر مکتوب اور ہر اشتہار میں حقیقی معنی میں نبی ہونے سے حضرت صاحب نے صاف انکار کیا ہے۔ اور جب آپ حقیقی نبی نہیں ہیں بلکہ مجازی نبی ہیں تو اس سے یہی لازم آتا ہے کہ آپ واقعہ میں نبی کی نہیں۔ وو یہ کچھ حضرت مسیح موعود کے متعلق اس رسالہ میں لکھا گیا ہے جو انجمن احمد یہ کا رسالہ ہے اور جس کے اجراء کا مقصد موٹے الفاظ میں یہ لکھا ہوا ہے۔ کہ مشن احمدیت ۔ مسائل احمدیت ۔ احیاء احمدیت ۔ یہ احمدیت کا مشن ہے۔ اور یہ احیاء احمدیت ہو رہی ہے۔ ادھر حضرت مسیح موعود نزول المسح صفحہ ۸۱ ۸۲ پر تحریر فرماتے ہیں - کہ:۔ جیسا کہ وحی تمام انبیاء علیہم السلام کی حضرت آدم سے لے کر آنحضرت