خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 205

خطبات محمود جلد ۴ یہاں کھینچ لائی۔ ۲۰۵ سال ۱۹۱۴ء اس کے علاوہ اس وقت لوگوں میں ایک محبت اور عقیدت کے جذبات جوش مارتے ہوں گے جبکہ وہ خیال کرتے ہوں گے کہ آج ہم اس متبرک اور پاک سرزمین پر پھر رہے ہیں جس پر آج سے تیرہ سو سال پیشتر آنحضرت صل اللا السلام پھرتے تھے۔ اور پھر خصوصا یہ کہ جب آنحضرت صل اللا السلام کو اہل مکہ نے یہاں سے نکال دیا تو کس شان و شوکت سے دوبارہ وہ قدوم میمنت لزوم یہاں پہنچے اور وہ مکہ کے لوگ جن کی اذیتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور یہاں لا اله الا اللہ کہنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن آج ہر ایک کی زبان پر اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ جاری ہوتا دیکھ کر کیا ہی لذت آتی ہوگی ۔ آج کے دن زوال سے لے کر سورج کے ڈوبنے تک حاجی عرفات میں اور مغرب سے لیکر صبح تک مزدلفہ میں آنحضرت صلی ا السلام کی سنت پر عمل کرنے والے دعاؤں میں لگے رہتے ہیں ۔ افسوس کہ بہت کم لوگ اس طرف توجہ کرتے ہیں اور اکثر ادھر اُدھر پھر کر وقت گزار دیتے ہیں۔ آنحضرت صلی السلام کی نسبت لکھا ہے کہ آپ صبح تک دعاؤں میں مشغول رہتے ۔ دعاؤں کیلئے یہ وقت بہت مبارک ہے۔ جس کو خدا نے عرفات اور مزدلفہ میں دعاؤں کی توفیق دی ہے وہ تو بہت خوش نصیب ہے لیکن جو اپنے گھروں میں ہیں ان کیلئے بھی خوش قسمتی کا موقع ہے وہ بھی دعاؤں میں مشغول رہیں۔ سب سے پہلے اس انسان کے لئے بہت دعائیں کی جائیں جس کے طفیل مذہب اسلام ہمیں ملا یعنی آنحضرت صلی لا الہ الم کیلئے ۔ اگر آپ کی مصیبتیں ، آپ کی جان کا ہیاں اور آپ کی دعائیں نہ ہوتیں تو ہم تک کہاں اسلام پہنچ سکتا تھا۔ اور آپ نے دن رات لگ کر تیس سال متواتر بلا ایک دم اور لمحہ راحت اور چین میں رہنے کے اسلام کی اشاعت کی جس کے نتیجہ میں ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی جس نے ہم تک اسلام کو پہنچایا۔ تو پہلے آنحضرت صلی لا الہ یام کیلئے پھر صحابہ کی جماعت کے لئے دعائیں کرو۔ اس جماعت نے اپنی جانیں ، اپنے مال ، اپنا وطن ، اپنی بیویاں ، اپنے بیٹے غرضیکہ سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔ خبیث الفطرت ہے وہ انسان جو صحابہ کرام کی قدر نہیں کرتا، پھر ان لوگوں کیلئے دعا ئیں کروجنہوں نے صحابہ سے اخذ کر کے بعد میں آنے والی نسلوں کو اسلام پہنچایا۔ ان میں سے محدثین کی جماعت جس نے آنحضرت صلی لا الہ سلم کے اقوال کو ہم تک پہنچایا۔ پھر آئمہ دین کی جماعت کہ