خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 159

خطبات محمود جلد ۴ ۱۵۹ (۳۶) ہر ایک ترقی قربانی چاہتی ہے فرموده ۲۱۔ اگست ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیت تلاوت کی :۔ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ا پھر فرمایا:۔ آج میرا ارادہ تھا کہ ایک نہایت ضروری معاملہ کی نسبت تفصیل سے سناؤں چونکہ میری طبیعت کچھ اچھی نہیں ہے اس لئے مختصر طور پر کچھ ہدایات سنا دیتا ہوں ۔ ہر ایک ترقی جودنہ جو دنیا میں ہوتی ہے وہ وہ کچھ چھ قربانی قربانی چاہتی چاہتی ہے ہے کوئی کوئی قوم قوم آج تک ترقی کی منزل پر نہیں چڑھی جب تک اس نے کچھ قربانی نہیں کی ۔ ہمارے آنحضرت صل الا السلام سے اللہ تعالیٰ کو کتنا محبت پیار تھا نے حتی که فرمادیا۔ ان كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله اللهُ اگر اگر ۲ اللہ تعالیٰ تعالی سے سے محبت کرنی کرنی ہو تو اس کیلئے ایک طریق ہے کہ تم میری پیروی کرو تم خدا تعالیٰ کے محبوب ہو جاؤ گے لیکن آپ کو بھی کیلئے ایک طریق ہے کہ تم میری پیروی کرو مسلمانوں کو ترقی دینے کے لئے قربانیاں کرنی پڑیں۔ اپنا وطن ترک کیا ، اپنے عزیز اور اپنے پیارے کو ترقی دینے کے لئے قربانیاں کرنی ترک کیا، اپنے عزیز اور خادم قربان کرنے پڑے، پھر کسی کا باپ اور کسی کا بیٹا اور کسی کا بھائی قربان ہو گئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ترقی دی۔ قربانیاں دو قسم کی ہوا کرتی ہیں ۔ ایک وہ جو انسان خود کرتا ہے اور ایک وہ جو خود نہیں کرنی پڑتیں بلکہ جب مامور آتا ہے اور لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں اور ہنسی کرتے ہیں اور