خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 141

خطبات محمود جلد ۴ 000000 ۱۴۱ سال ۱۹۱۴ء کے دل میں خدا تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کسی چیز کی عظمت ، محبت ، طلب اور پیار نہ ہو لیکن ایک شخص تمام افعال بد کرتا ہوا بھی یہی کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو یہ کہاں مسلمان ہو سکتا ہے۔ رسول کریم صلی الله السالم کو ماننا :۔ پھر ایک شخص محمد رسول اللہ کہتا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت صلی السلام نے جو کچھ فرمایا ہے اس کو میں مانتا ہوں۔ لیکن صریحا آپ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ تو بہت منہ سے بہت کچھ کہتے ہیں لیکن کرتے نہیں ۔ یہی وجہ اسلام کے تنزل کی ہے کہ مسلمان با وجود لا اله الا اللہ کا اقرار کرتے ہوئے کہ ہم خدا سے ہی محبت رکھتے ہیں اور کسی سے نہیں رکھتے اور وں سے تعلق رکھنے لگے۔ پھر آنحضرت صلی السلام کے احکام پر عمل کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ان کی پرواہ نہ کرنے لگے اور اپنے نفس، ماں، باپ، حاکم ، دوست وغیرہ کا تو حکم مانتے ہیں لیکن اگر کسی کا حکم نہیں مانتے تو ہمارے رسول کریم ملانا اسلم کا حکم نہیں مانتے۔ کہنے کو تو سب کہتے ہیں کہ ہم متقی ہیں، پر ہیز گار ہیں ، ہمارا خدا تعالیٰ سے تعلق ہے لیکن جس شرط کی وجہ سے وہ مسلمان کہلاتے ہیں جب اس کو پورا نہیں کرتے تو وہ مسلمان کس طرح ہو سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا ان سے تعلق کیونکر ہو سکتا ہے بلکہ یہ تو سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں ۔ پہلی قوموں کو اسی عادت نے تباہ کیا کہ جو کچھ وہ کہتی تھیں وہ کرتی نہ تھیں ۔ مسلمان بھی اسی وجہ سے تباہ ہوئے ہیں۔ اب مسلمان اس وقت تک کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے جب تک کہ جو کچھ منہ سے کہتے ہیں وہ عمل سے نہ کر دکھا ئیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے یہودیوں سے پکا عہد لیا اور بحالیکہ وہ طور کے دامن میں تھے کہا جو کچھ تم کو دیا جاتا ہے اس کو مضبوط پکڑنا اور ان باتوں کو خوب یاد رکھنا تا کہ تم عذاب سے بچو لیکن پھر تم اس کے بعد پھر جاتے ہو ۔ تَوَلَّيْتُمْ کی مثال مسلمانوں کے اعمال میں ہے۔ کہ وہ خدا کے حضور پانچ وقت اقرار کرتے ہیں ۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ ہے ہم تیرے ہی فرمانبردار ہیں اور تیرے حکم کے خلاف کچھ نہیں کریں گے مگر پھر مسجد سے نکلتے ہی احکام الہی کی خلاف ورزی شروع کر دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی اور تم کو تمہارے اعمال کی وجہ سے سزا دی جاتی تو تم بڑے گھاٹا پانے والوں میں سے ہوتے ۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کی شرارتوں کی وجہ سے سزا دینا شروع کرے تو کوئی بھی دنیا کی