خطبات محمود (جلد 4) — Page 137
خطبات محمود جلد ۴ ۱۳۷ سال ۱۹۱۴ء سے علیحدہ ہو جاؤ اور خدا کے احکام کے پورا کرنے میں لگ جاؤ ۔ الراكِعُونَ تمہارا سر ہمیشہ اسی کے دروازے پر جھکا رہے ۔ السَّاجِدُون پھر بالکل اسی کی طرف جھک جاؤ کوئی و جاؤ ا کوئی دوسری جگہ ایسی تمہاری کی نگاہ میں نہ ہو جو خدا کے سوا ہو۔ وہ شخص جو ایک خدا کو نہیں مانتا اسے مختلف دروازوں : ے مختلف دروازوں پر جانا پڑے نا پڑے گا لیکن ایک مسلمان اور ایک مومن انسان کو کبھی یہ امید نہیں رکھنی چاہیئے کہ اسے کسی اور جگہ سے بھی ملے گا۔ ایک عابد تھا جو پہاڑ میں رہا کرتا تھا اس کو اللہ تعالیٰ اس کا رزق پہاڑ ہی میں پہنچا دیتا تھا۔ ایک دن اسے روٹی نہ ملی اس نے صبر کیا ۔ دوسرے دن نہ ملی۔ پھر صبر کیا۔ تیسرے دن نہ ملی تو وہ اس پہاڑ سے اتر کر ایک شہر میں چلا گیا وہاں سے سوال کر کے اس نے تین روٹیاں حاصل کیں ۔جس مکان کے مالک سے اس نے روٹیاں لیں اس کا کتا اس فقیر کے پیچھے لگ گیا۔ فقیر نے اُسے آدھی روٹی ڈال دی۔ پھر اُس نے پیچھا کیا اس نے نصف اور ڈال دی۔ اسی طرح اس نے دو روٹیاں اس کے آگے ڈالیں۔ پھر جو کتے نے اس کا پیچھا کیا تو اس نے کہا۔ تجھے شرم نہیں بے حیا! دو روٹیاں تو میں تجھے ڈال چکا ہوں۔ پھر اس فقیر کو کشفی حالت میں اس کتے نے کہا۔ بے حیا تو تو ہے۔ تین دن روٹی نہیں ملی تو اپنے مالک کو چھوڑ کر دوسروں سے مانگنے لگ گیا۔ مجھے سات سات دن بھوکا رہنا پڑتا ہے لیکن کبھی اپنے مالک کا گھر چھوڑ کر دوسری جگہ نہیں گیا۔ بتا بے حیا میں ہوں یا تو ؟ جو اپنے رازق کا دروازہ چھوڑ کر ایک ادنی آدمی کے پاس مانگنے چلا آیا۔ سجدے کے کیا معنی : تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن کو چاہیئے کہ سجدے میں گر جاوے۔ رکوع میں تو انسان کی نظر پھر بھی تھوڑی دور تک پہنچ سکتی ہے لیکن سجدے میں اسے سوائے سجدے کی جگہ کے اور کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ اس بتلایا کہ مومن کو چاہئے کہ اس کی نظر سوائے خدا کے کسی پر نہ پڑے اور اس کی توجہ صرف اسی ، کی طرف ہو۔ رکوع اور سجدہ کا لفظ اسی لئے علیحدہ علیحدہ بیان فرما یاور نہ نماز کا حکم ہی کافی تھا۔ سے الْأَمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۔ پھر تم لوگوں کو امر بالمعروف کرو اور بری بات اگر دیکھو تو اس سے روکو ۔ نبی کریم صلی السلام نے فرمایا ہے کہ مومن اگر کسی بری ۔ بات کو دیکھے تو چاہئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے ۔ اگر نہیں تو منہ سے ورنہ دل میں ہی اس کو بُرا منائے ۔ یہ سب سے کمزور ایمان ہے ۳۔ پس تم کسی کی پرواہ مت کرو اور کوئی