خطبات محمود (جلد 4) — Page 132
خطبات محمود جلد ۴ ۱۳۲ (۳۱) الہی بیع میں کوئی نقصان نہیں (فرمودہ ۱۷۔ جولائی ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشهد و تعو ذاور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔ إِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمُ بِهِ وَذُلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحِوْنَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْأَمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ فرمایا:۔ چونکہ جلد ہی دونوں سکولوں میں رخصتیں ہونے والی ہیں اور غالبا اسی ہفتہ میں ہمارے بعض استاد اور سب بچے اپنے گھروں کو جاویں گے اس لئے میں نے وہ ترتیب جو شروع کی ہوئی تھی اسے چھوڑ کر چاہا کہ بچوں کو کچھ نصائح کردوں ۔ دنیا میں قسم قسم کی بیعیں ہوتی ہیں اور بڑا بیو پار اور تجارت ہوا بیو پار اور تجارت ہو رہی ہے۔ یورپ کا ساراز در تجارت پر ہے۔ اس زمانہ میں تجارت کا اتنا زور ہے کہ اس کی وجہ سے بعض مفید اور نیک باتیں دنیا سے مفقود ہیں ۔ مثلاً مہمان نوازی یہ ایک اعلیٰ وصف تھا۔ لیکن یورپ میں کوئی کیسا عزیز دوست کیوں نہ ہوا سے ہوٹل میں اترنا پڑتا ہے اور کھانے پینے کا بل اس کے سامنے