خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 101

خطبات محمود جلد ۴ ۱۰۱ سال ۱۹۱۴ء اٹھا سکتے ہیں لے جائے حضرت عباس نے چادر میں اس قدر مال ڈال لیا کہ یا رسول اللہ ! مدد کر یو۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں خود ہی اٹھا لیجئے۔ پھر حضرت عباس نے کچھ کم کیا اور پھر بھی نہ اٹھا کر لے جا سکے۔ اور گھسیٹتے گھسیٹتے باہر لے گئے اور کہنے لگے کہ جب رسول کریم صلی السلام نے موقعہ دیا ہے تو میں کیوں کمی کروں سے تم کو بھی خدا تعالیٰ نے موقعہ دیا ہے جس قدر تم لے سکتے ہو لے لو۔ تمہارے لئے روحانیت معرفت اور خدا تعالیٰ کے قرب کے دروازے کھل گئے ہیں ۔ تم سے جتنا بھی ہو سکے اس مال کے سمیٹنے کی کوشش کرو ۔ ایسانہ ہو کہ وقت جا تا ر ہے۔ ہم سب کو اللہ تعالیٰ سمیٹنے کی توفیق دے اور نیک بندوں میں داخل کرے۔ الفضل ۲۷ مئی ۱۹۱۴ء) البقرة : ٢٨ تا ٥٠ اس صحابی کا نام زمانہ جاہلیت میں غاوی بن ظالم السلمی تھا جسے آنحضرت صلای ایام نے ان کے قبول اسلام کے بعد بدل کر راشد بن عبداللہ کر دیا۔ اس واقعہ کے متعلق حضرت راشد بن عبداللہ نے یہ شعر بھی کہا۔ وَرَبُّ يَبُولُ الثَّعْلُبَانُ بِرَأْسِهِ لَقَدْ ذَلَّ مَنْ بَالَتْ عَلَيْهِ الثَّعَالِبُ۔ یعنی کیا وہ بت خدا ہو سکتا ہے جس کے سر پر گیڈر پیشاب کریں ۔ حقیقتا وہ بت تو ذلیل ترین ہے جس پر گیدڑ پیشاب کریں۔ بعض کے نزدیک یہ شعر حضرت ابوذرغ یہ شعر حضرت ابوذرغفاری یا عباس بن مرواس کی کا ہے (لسان العرب جلد ۲ صفحه ۱۰۱ مطبوعہ بیروت لبنان (۱۹۸۸ء ) اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ سیرت ابن ہشام جلد ۱ صفحہ ۱۵۸ ، ۱۵۹ مطبوعہ مصر ۱۲۹۵ھ میں بھی ملتا ہے۔ اور وہاں عمرو بنک الجموح صحابی کی طرف منسوب ہے ۔ بخارى كتاب الجزية ما اقطع النبى صلى الله عليه وسلم من البحرين وما وعد من مال البحرين ۔۔۔۔ --