خطبات محمود (جلد 3) — Page 77
خطبات محمود ८८ جلد سوم اب اس کے خط آتے ہیں کہ اس کا خاوند دین سے اس قدر نفرت رکھتا ہے کہ اگر وہ اسے قرآن مجید پڑھتے پالے تو غصہ سے قرآن مجید چھین کر ایک طرف پھینک دیتا ہے اور اسے کہتا ہے کہ تم یہ جادو کیا پڑھ رہی ہو اور کئی دفعہ وہ اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر اس کے پاس جاتا اور اس کا منہ ادھر ادھر پھیر کر نماز پڑھا دیتا ہے۔ یہ اور اس سے بدتر حال ان صالح خواتین کا ہوتا ہے جن کی شادی برے مردوں سے ہو جاتی ہے۔ اگر یہی صالح عورتیں صالح مردوں کی بیویاں ہوتیں تو وہ الہی منشاء جو اس قانون بقاء نسل سے تھا اچھی طرح پورا ہوتا اور انسان اس بار امانت سے حتی الوسع سبکدوش ہو جاتا مگر لوگ اس امر میں جلد بازی کرتے ہیں اور ان کا مقصد ظاہری حسن اور طبیعت کی ادنی خواہش کو پورا کرنا ہوتا ہے اس لئے وہ ٹھوکریں کھاتے ہیں اور بد قسمتی کی موت مرتے ہیں۔ یہ یاد رکھو کہ تمہاری زندگی کی اغراض صرف تمہاری اپنی ذات تک محدود نہیں اور اگر تم میں سے کوئی علم و فضل اور اخلاق و تقوی اپنے اندر رکھتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ جب تک وہ ان کی حفاظت اور بقاء کا سامان مہیا نہ کرے ہرگز ہرگز آرام اور راحت کی زندگی بسر نہ کرے۔ اس پر واجب ہے کہ وہ اس وقت تک معطر اور بے قرار رہے جب تک وہ اس مقدس امانت کو جو مشیت الہی نے اس کی فطرت کو سونچی ہے بقاء کا ایک لباس نہ پہنا دے۔ فٹ بال کی کھیل میں تم دیکھتے ہو جب ایک مد مقابل کھلاڑی دوسرے کھلاڑی سے فٹ بال چھیننا چاہتا ہے تو وہ اس کو اس سے بچانے کی حتی الوسع کوشش کرتا ہے اور اس کو ایک طرف سے دوسری طرف لئے بھاگتا پھرتا ہے یہاں تک کہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے محفوظ رکھنے کی اب سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں کہ وہ اس کو اپنی ہی ٹیم کے کسی ہو شیار لڑکے تک پہنچا دے جہاں وہ اس مد مقابل غنیم کی دست برد سے محفوظ رہے گا۔ ٹھیک اسی لڑکے کی طرح تمہارا حال ہونا چاہئے موت کا غنیم تم سے الہی امانت کو چھین کر ضائع کرنا چاہتا ہے اور پیشتر اس کے کہ وہ تم پر حملہ آور ہو اس بار امانت کو اپنی اولاد تک پہنچا دو اور جہاں تک کہ تم سے ہو سکتا ہے اتم پر حملہ ہو بار امانت اولاد دو اور جہاں اس کے پہنچانے اور محفوظ رکھنے کے لئے صحیح سامان اور صحیح اسباب پیدا کرو۔ خود اپنے آپ کو صالح اور متقی بناؤ اور جس سامان کو تم اختیار کرنا چاہتے ہو وہ صالح سامان ہو اور اس میں کچھ اور سامان کو تم نقص ہے تو اس کی اصلاح کرو اور جو ثمرات پیدا ہوں ان کو اجتماعی مفاسد کے سبب بگڑ جانے سے بچاؤ اور ان کی تربیت جیسی کہ چاہئے کرو۔ اگر تم نے ان میں سے ایک بات میں بھی کو تاہی کی تو