خطبات محمود (جلد 3) — Page 60
خطبات محمود ५० جلد موم جو آیات حضور تلاوت فرماتے تھے وہ ان کو خوب سمجھ لیتے تھے مگر ہمارے لوگ چونکہ اس سے ناواقف ہیں اس لئے ان کو بتانا پڑتا ہے ۔ یہ آیات جو پڑھی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک کو لیتا ہوں اور کسی قدر بیان کرتا ہوں۔ خدا فرماتا ہے - يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلَتَنْظُرُ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ، وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ 2 اے لوگو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور غور کرو کہ تم تعالیٰ نے کل کے لئے کیا کیا ہے ۔ نکاح کا معاملہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے آج کا ہی معاملہ نہیں بلکہ عمر کے لئے ہے اور پھر قیامت تک کے لئے ہے اس لئے تمہیں اس میں تقوی مد نظر ہونا چاہئے اور تمہیں سوچنا چاہئے کہ نکاح کے بعد تم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اس عورت اور اس کے رشتہ داروں کی طرف کیا ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ بعض لوگ بعد میں کہتے ہیں کہ ہمیں کیا معلوم تھا عورت ایسی ہوگی۔ مگر ان کا فرض تھا کہ پہلے تحقیق کر لیتے۔ پھر بعض لوگ شادی کر لیتے ہیں۔ لیکن جب خرچ کی ضرورت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہاں سے لائیں ۔ انہوں نے پہلے ہی کیوں نہ سوچا۔ پھر بعض لوگ جھوٹ موٹ کہتے ہیں لڑکا ایسا ہے یا لڑکی ایسی ہے۔ اتنی جائداد ہے۔ اتنا زیور دیں گے۔ لیکن بعد میں جب ان کا جھوٹ ظاہر ہو جاتا ہے تو فساد پیدا ہوتا ہے۔ ان کو حکم ہے تقوی سے کام لو۔ اسی طرح کہتے ہیں کہ ہم تو خوبصورت سمجھتے تھے حالانکہ ہر شخص کا خوبصورتی کا معیار الگ ہوتا ہے ۔ پھر بعض عورتیں اس قسم کی ہوتی ہیں کہ جہاں آئیں فورا کہتی ہیں ہمیں تو الگ کر دو ۔ یہ تو شریعت کہتی ہے کہ الگ مکان ہو ۔ مگر بعض کہتی ہیں جہاں مرد کے ماں باپ ہیں ہم اس شہر میں بھی نہیں رہ سکتیں۔ پھر بعض عورتوں پر اس قسم کے ظلم ہوتے ہیں کہ الاماں۔ ہزاروں بے چاری غم سے رسل میں بتلاء ہو کر مر جاتی ہیں۔ پس فرمایا کہ پہلے سوچو اور پھر کسی جگہ معاملہ کرو۔ یہ نہیں کہ پہلے کر لو اور پھر پیچھے سے فضیحت ہوتی پھرے ۔ اصل چیز تقویٰ ہے ۔ اگر خدا کا تقوی مد نظر ہو گا تو کام درست ہو جائیں گے اور پھر فرمایا یا د رکھو اللہ ہر کام جو تم کرتے ہو اس سے واقف ہے ۔ اس ذریعہ سے بھی نیتوں کی صفائی اور معاملات میں صفائی پیدا کرنے کی تعلیم دی اور یہ کیسی اعلیٰ تعلیم تھی لیکن افسوس اس کو بھی مسلمانوں نے خراب کر دیا۔ الفضل ۲۰ جولائی ۱۹۲۰ء صفحہ ۷ تا ۹)