خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 681 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 681

خطبات محمود ٩٨١ جلد سوم اس لڑکی کی جائداد خاندانی مصائب کو دور کرنے کا موجب ہوگی۔ تو یہ الہی تدبیر تھی بچپن میں ایک بات کہی گئی تھی اور پھر وہ بات بڑی شان سے پوری ہوئی بہر حال یہ اللہ تعالی کے غیب کا ایک بین ثبوت ہے۔ موعود اسی طرح اور بھی سینکڑوں پیشنگوئیاں ہیں جو بعد میں پوری ہو ئیں اور حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کی صداقت کا بین ثبوت بنیں ۔ مثلاً میرے متعلق ہی آپ کی یہ پیشگوئی تھی کہ وہ صاحب شکوہ اور عظمت و دولہ لمت و دولت ہو گا اب آپ لوگ دیکھ اپ لوگ دیکھ لیں کہ حضرت مسیح موع علیہ الصلوة والسلام کی اپنی زندگی میں آپ کی کس قدر جائداد تھی۔ آپ نے مخالفین کو انعامی چیلنج کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنی ساری جائداد جو دس ہزار روپیہ مالیت کی ہے پیش کرتا ہوں گویا اس وقت آپ کی جائداد صرف دس ہزار روپیہ کی تھی لیکن اب وہ لاکھوں روپے کی ہے یہ سب خدا تعالیٰ کا فضل ہے ورنہ مجھے یاد ہے کہ چکی ہے۔ یہ دولت کہاں سے آئی ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کی وفات کے بعد جب نانا جان نے ہماری زمینوں سے تعلق رکھنے والے کاغذات واپس کئے تو میں اپنے آپ کو اتنا بے بس محسوس کرتا تھا کہ میں حیران تھا کہ کیا کروں۔ اتفاق سے شیخ نور احمد صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے مجھے معلوم ہوا ہے ہو اسے دوں کہ آپ کو ایک ملازم کی ضرورت ہے آپ مجھے رکھ لیں۔ میں نے کہا میں تنخواہ کہاں سے گا میرے پاس تو نہ کوئی رقم ہے جس سے تنخواہ دے سکوں اور نہ جائداد سے اتنی آمد کی توقع ہے انہوں نے کہا آپ جو چھوٹی سے چھوٹی تنخواہ دینا چاہیں وہ دے دیں اور پھر انہوں نے خود ہی کہہ دیا کہ آپ مجھے دس روپے ماہوار ہی دے دیں ۔ چنانچہ میں نے انہیں ملازم رکھ لیا اور یہ خیال کیا کہ چلو اس قدر تو آمد ہو ہی جائے گی ۔ لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ جوں جوں شہر ترقی کرتا گیا اس جائداد کی قیمت بھی بڑھتی چلی گئی ۔ جب قرآن کریم کے پہلے ترجمہ کے چھپوانے کا سوال پیدا ہوا تو میں نے چاہا کہ اس ترجمہ کی اشاعت کا سارا خرچ ہمارا خاندان ہی برداشت کرے۔ میں نے اس وقت شیخ نور احمد صاحب کو بلوایا اور ان سے کہا کہ اس وقت مجھے دو ہزار روپے کی ضرورت ہے کیا اس قدر روپیہ مہیا ہو سکے گا انہوں نے کہا آپ زمین کا کچھ حصہ مکانات کے لئے فروخت کرنے کی اجازت دے دیں تو پھر جتنا چاہیں روپیہ آجائے گا۔ چنانچہ میں نے کچھ زمین فروخت کرنے کی اجازت دے دی یہ زمین ۵۰ کنال کے قریب تھی اور اس جگہ واقع تھی جہاں بعد میں محلہ دار الفضل آباد ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد شیخ صاحب واپس