خطبات محمود (جلد 3) — Page 675
خطبات محمود ۶۷۵ جلد سوم جائے تو وہاں اچھے پیمانہ پر چھپے گا ۔ بات تو بڑی معقول تھی مگر میرا دل نہیں چاہتا کہ جس رسالہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شائع کرنا شروع کیا تھا اس کو ہم دوسرے علاقہ میں منتقل کر دیں۔ جہاں تک ہو سکتے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ یہیں اچھے آدمی پیدا ہو جائیں اور وہ اس رسالہ کو جاری رکھیں۔ چاہے اس کا دوسرا ایڈیشن وہاں بھی چھپ جائے۔ امریکہ کے بعض اخبار ایسے ہیں جن کا ایک ایڈیشن کینیڈا میں نکلتا ہے اور ایک انگلینڈ میں نکلتا ہے اب ریڈرز ڈائجسٹ READERS DIGEST کا ایک ایڈیشن پاکستان میں بھی نکلنا شروع ہوا ہے ۔ تو بے شک اس کے دو ایڈیشن کر دیئے جائیں ایک امریکہ سے چھے اور ایک پاکستان سے چھپے ۔ مگر میرا دل چاہتا ہے کہ یہ ہمارے قریب سے چھپے تاکہ ہمارے دلوں کو یہ تسلی رہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو امانت ہمارے سپرد کی تھی اس کو ہم نے سنبھالا ہوا ہے ۔ یہ نکاح جو امتہ المتین کا سید محمود احمد صاحب سے قرار پایا ہے چونکہ سید محمود احمد صاحب انگلینڈ میں ہیں اور وہ عزیزم مرزا عزیز احمد صاحب کے سالے ہیں اس لئے ان کی طرف سے ان کو ایجاب و قبول کا اختیار ملا ہے ۔ اپنی لڑکی کی طرف سے میں قبولیت کا اعلان کرتا ہوں کہ امتہ المتین جو میری لڑکی ہے اس کو اپنا نکاح ایک ہزار روپیہ مهر پر سید محمود احمد صاحب ابن میر محمد اسحق صاحب مرحوم سے منظور ہے۔ مرزا عزیز احمد صاحب آپ فرمائیں کہ سید محمود احمد صاحب کی طرف سے ان کا نکاح ایک ہزار روپیہ مہر پر میری لڑکی امتہ المتین سے منظور ہے۔ فرمایا: انہوں نے منظوری کا اعلان کیا اس کے بعد حضور نے باقی سات نکاحوں کا اعلان فرمایا مرزا خورشید احمد صاحب ابن مکرم مرزا عزیز احمد صاحب کے نکاح کا اعلان کرتے ہوئے یہ لڑکا بھی ہمارے خاندان میں سے وقف ہے ۔ مرزا عزیز احمد صاحب کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اپنے اس بچہ کو اعلیٰ تعلیم دلائیں چنانچہ ان کا یہ لڑکا ایم اے میں پڑھ رہا ہے ابھی پاس تو نہیں ہوا۔ مگر انگریزی میں ایم اے کا امتحان دے رہا ہے اور کہتے ہیں کہ انگریزی میں بڑا لائق ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ بعد میں یہ کالج میں پروفیسر کے طور پر کام کرے۔ ایجاب و قبول کے بعد حضور نے فرمایا اب سب احباب دعا کریں اس کے بعد میں کچھ کلمات کہہ کے اور دعا کر کے جلسہ کا