خطبات محمود (جلد 3) — Page 625
خطبات محمود ۶۲۵ جلد سوم مقام کو بلند کیا جائے ۔ میں نے بارہا بتایا ہے کہ جو لوگ دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں ان کا اصل اجر تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے لیکن جہاں تک جماعت کی زمہ داری کا تعلق ہے وہ اپنے فرض سے اس وقت تک کبھی سبکدوش نہیں ہو سکتی جب تک وہ اپنے اندر یہ احساس پیدا نہیں کرتی کہ دین کی خدمت کرنے والوں کے مقابلہ میں دنیا کا ایک بڑے سے بڑا عہدیدار بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر اس احساس کو تم لوگ زندہ رکھو گے تو تمہاری اولادوں میں بھی دین کی خدمت کرنے کا جذبہ زندہ رہے گا اور ہمیشہ تمہیں دین کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے والے لوگ میسر آتے رہیں گے ۔ لیکن اگر تم نے بھی دنیوی اعزاز رکھنے والوں کو ہی عزت دینی شروع کردی اور جب کسی نے زندگی وقت کرنے کا ارادہ کیا تو رشتہ داروں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ کھائے گا کہاں سے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خدمت دین کا جذبہ تمہاری آئندہ نسل کے دلوں میں سے مٹ جائے گا اور وہ کہیں گے کہ آؤ ہم بھی اسی راستہ پر چلیں جس پر چل کر ہمیں دنیا میں عزت حاصل ہو سکتی ہے ۔ بے شک اصل عزت رہی ہے جو ایک متقی کو حاصل ہوتی ہے اور اصل انعام بھی وہی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے مگر کوئی چیز اپنے ماحول سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہتی ۔ اگر ماحول ایسا ہو جس میں دین کی خدمت کرنے والوں کو اس نگاہ سے نہ دیکھا جاتا ہو جس نگاہ سے دیکھے جانے کے وہ مستحق ہیں تو لازما کمزور طبائع اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں ۔ پس میں جماعت کو ہو شیار کرتا ہوں کہ وہ اس رویہ میں تبدیلی پیدا کرے اور خدمت دین کرنے والوں کے متعلق یہ کبھی سوال پیدا نہ ہونے دے کہ یہ لوگ کھائیں گے کہاں سے تاکہ اسے ہمیشہ ایسے لوگ میسر آتے رہیں جو دین کے لئے قربانیاں کرنے والے ہوں۔ تم عیسائیوں کو خواہ کتنا برا کہہ لو ان کی اس خوبی کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے اپنے اندر پادریوں کا سسٹم جاری رکھ کر اور پھر ان کو عزت کا مقام دے کر اپنے مذہب کی عظمت کو قائم کر دیا ہے ۔ ان کا پادری حکومت سے تنخواہ پاتا ہے اور پھر اسے عزت کے ساتھ ہر مجلس میں بٹھایا جاتا ہے مگر مسلمانوں کا ملاں در بدر روٹی مانگتا پھرتا ہے اور اپنے ہی مقتدیوں کی نگاہ میں وہ ذلیل اور حقیر ہو جاتا ہے ۔ اب بھلا ایک مولوی کی کیا عزت ہو سکتی ہے جبکہ وہ نان شبینہ کے لئے بھی دو سروں کا محتاج ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ قادیان کے اندر دو ملاں تھے جن