خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 613

خطبات محمود ۶۱۳ جلد سوم مجھے یاد ہے بچپن میں بچوں کو کھیلوں کا شوق ہوتا ہے یہاں ایک دوست ہیں میں ان کا نام نہیں لیتا وہ آپ سمجھ جائیں گے ۔ بچپن میں جب ہم ان سے کہتے کہ فلاں میچ ہے چلو دیکھ آئیں تو وہ جواب دیتے اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ جنت میں مومن جو کچھ خواہش کرے گا اس کی وہ خواہش پوری کر دی جائے گی تو پھر میچ دیکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ جنت میں کہیں گے ہم نے فلاں میچ دیکھنا ہے ہم کو دکھا دیا جائے گا۔ بظاہر یہ نہی کی بات ہے ہم بھی اس بات پر ہنسا کرتے تھے لیکن واقعہ یہی ہے کہ انسان کی تمام ترقیات اور تمام مراتب کی بلندی اخروی زندگی سے وابستہ ہیں اور جس کو اخروی زندگی حاصل ہو جائے وہ ہر قسم کی ہلاکت سے قسم کی ہلاکت سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ یہ اخر دی زندگی دو قسم کی ہوتی ہے۔ اخروی زندگی وہ بھی ہے جو مرنے کے بعد ہے اور اخر دی زندگی یہ بھی ہے کہ جب انسان مر جائے تو اس کا قائم مقام کھڑا ہو جائے تو اس کے معنے ہیں کہ اس کے مرنے کے بعد بھی اس کا کام جاری ہے اور یہی زندگی ہے ۔ ایک دفعہ ایک عباسی بادشاہ ایک بڑے عالم سے ملنے گیا جا کے دیکھا کہ وہ اپنے شاگردوں کو درس دے رہے تھے ۔ بادشاہ نے کہا اپنا کوئی شاگرد مجھے بھی دکھاؤ میں اس کا امتحان ہوں انہوں نے ایک شاگرد پیش کیا۔ بادشاہ نے اس سے بعض سوال پوچھے اس نے نہایت اعلیٰ صورت میں ان سوالوں کا جواب دیا یہ سن کر بادشاہ نے کہا مَا مَاتَ مَنْ خَلَفَ مِثْلَک وہ شخص جس نے تیرے جیسا قائمقام چھوڑا کبھی نہیں مر سکتا کیونکہ اس کی تعلیم کو قائم رکھنے والا تو موجود ہو گا۔ انسان کا گوشت پوست کوئی قیمت نہیں رکھتا۔ گوشت پوست جیسے ایک چور کا ہے ویسے ہی ایک نیک آدمی کا ہے، ہڈیاں جیسے ایک چور کی ہیں ویسے ہی نیک آدمی کی ہیں، خون جیسے ایک چور کا ہے ویسے ہی نیک آدمی کا ہے فرق صرف یہ ہے کہ اس کے اخلاق برے ہیں اور اس کے اخلاق اعلیٰ درجہ کے ہیں اس کے اندر روحانیت نہیں اور اس کے اندر اعلیٰ درجہ کی روحانیت پائی جاتی ہے۔ یہ پس اگر اس کی وہ روحانیت اور اء اعلیٰ درجہ کے اخلاق دو سرے میں باقی رہ جائیں گے تو یہ مرا کس طرح؟ قبر میں اس کا گوشت پوست گیا جو کوئی حقیقت نہیں رکھتا مگر روحانیت دنیا قائم رہی۔ پس ساری کامیابی اس میں ہے کہ انسان کے پیچھے اچھے قائم مقا قائم مقام رہ جائیں ہیں چیز ہے جس کے لئے قومیں کوشش کیا کرتی ہیں۔ یہی چیز ہے کہ اگر یہ قوم کو حاصل ہو جائے تو یہ بہت بڑا انعام ہے ۔ آج تک کبھی دنیا نے یہ محسوس نہیں کیا کہ ساری کامیابی فتوحات میں نہیں بلکہ نسل میں ہے اگر آئندہ نسل اعلیٰ اخلاق کی ہو تو وہ قوم مرتی کبھی نہیں بلکہ زندہ رہتی ہے میں قائم