خطبات محمود (جلد 3) — Page 45
خطبات محمود ۴۵ جلد سوم کے متعلق ایک خطبہ نکاح کے بیان کیا تھا میرے نزدیک احمدیوں کے تمام نکاح حضرت مسیح موعود کی صداقت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہیں خواہ وہ اپنے اندر کوئی پیشگوئی رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں ان سے حضرت مسیح موعود کی صداقت ثابت ہوتی ہے۔ جس قدر انبیاء دنیا میں آئے ہیں ان کی بعثت کی غرض یہی تھی کہ خدا کے وجود کو دنیا کے سامنے پیش کریں اور ایک خدا کی پرستش لوگوں سے کرائیں۔ یا دوسرے الفاظ میں یہ کہ خدا تعالٰی کی توحید ثابت کریں اور لوگوں سے منوائیں۔ جس وقت کوئی نبی آتا ہے اس سے پہلے لوگ مختلف خداؤں کو مانتے اور ان کی پرستش کرتے ہیں اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ منہ سے ہی کہیں کہ دو خدا ہیں یا تین بلکہ انہوں نے خدا تعالی سے عملاً ایسی علیحدگی اختیار کی ہوتی ہے کہ ہر قوم، ہر خاندان، ہر گھرانہ، بلکہ ہر شخص کا خدا علیحدہ ہوتا ہے۔ کیونکہ جب انبیاء آتے ہیں اس وقت لوگ دنیادی وجاہتوں، رتبوں اور رسم ورواج میں ایسے پڑے ہوتے ہیں کہ ان کو چھوڑنے کا نام تک نہیں لیتے اور قوم پرستی حد سے زیادہ بڑھی ہوتی ہے۔ رسول کریم اللہ کے وقت بھی یہی معلوم ہوتا ہے اور حضرت مسیح اور حضرت موسئی کے وقت میں بھی۔ حضرت موسیٰ" کے وقت تو قومیت پرستی اس شدت کو پہنچی ہوئی تھی کہ فرعون بنی اسرائیل کے سامنے ہونے سے پر ہیز کرتا تھا اور سمجھتا تھا کہ ان کی نظر پڑنے سے میں ناپاک ہو جاؤں گا۔ پھر ان کو کوئی رتبہ کوئی درجہ ، کوئی عزت حاصل نہیں ہونے دیتا تھا اور سب قسم کا آرام و آسائش صرف اپنی ہی قوم کے لئے سمجھتا تھا۔ اسی طرح حضرت مسیح کے وقت کا حال اناجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود کھانے پینے، بیٹھنے اٹھنے اور دوسرے معاملات میں بڑے سخت تھے۔ اور رسول کریم ﷺ کے وقت کے متعلق تو قرآن کریم میں آگیا ہے کہ یہود کہتے ہیں کہ جو یہودی ہو گا وہ نجات پائے گا اور نصاری کہتے ہیں جو عیسائی ہو گا وہ نجات پائے گا۔ سے اور مشرک کہتے ہیں جو مشرک ہے وہ نجات پائے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ خدا تعالی کو ماننے اور اس کی اطاعت کرنے سے نجات نہیں مل سکتی بلکہ ہماری قوم میں سے ہونا نجات کا باعث ہے تو ہر قوم اس وقت ! اس وقت اپنے آپ کو ایسی ممتاز اور معزز سمجھتی ہے کہ ہر ایک نیکی اور بڑائی اپنے ہی لئے مخصوص کر لیتی ہے اور اس طرح قوم گویا اپنا الگ الگ خدا بنا لیتی ہے۔ ایسے وقت میں نبی اکر ایک خدا کو منواتا ہے اور عملی طور پر لوگوں سے خدا کے ایک ہونے کا اس طرح اقرار کراتا ہے کہ وہ سب لوگ اپنے آپ کو ایک ہی خدا کی مخلوق سمجھنے لگ جاتے