خطبات محمود (جلد 3) — Page 561
خطبات محمود ۵۶۱ i جلد سوم دوسرا پہلا تو غالبا نہیں ہو گا کیونکہ مجھے اس کا نظارہ اچھی طرح یاد ہے ۱۸۹۱ء میں پہلا جلسہ ہوا ہے اور اس وقت میری عمر بہت چھوٹی تھی اس لئے غالبا یہ دوسرا جلسہ ہو گا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جہاں آج کل مدرسہ احمدیہ ہے یہاں ایک پلیٹ فارم بنا ہوا تھا۔ پہلے یہاں فصیل ہوا کرتی تھی گورنمنٹ نے اسے نیلام کر دیا اور اس ٹکڑے کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خرید لیا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے یہ ٹکڑا زمین ستر روپوں میں خریدا گیا تھا حضرت خلیفہ اول ان دنوں جموں میں تھے جب آپ کو یہ اطلاع ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام یہ زمین خریدنا چاہتے ہیں تو غالبا آپ نے ہی روپے بھجوائے تھے اور آپ کے روپوں سے ہی یہ زمین خریدی گئی تھی۔ اس وقت یہاں ایک چبوترہ ساتھا وہ جگہ اس سے کم ہی چوڑی تھی جتنی اس مسجد مبارک کی چوڑائی ہے لیکن لمبی چلی جاتی تھی مہمان خانے کے ایک سرے سے شروع ہو کر نواب صاحب کے مکانوں کی حد تک چلی گئی تھی اور وہاں فصیل کے گر جانے کی وجہ سے چبوترہ بنا دیا گیا تھا۔ دوسرا جلسہ یا دوسرے جلسے کا کچھ حصہ اس فصیل پر ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے ہم اس وقت اس جلسہ اور اس کی غرض وغایت کو سمجھنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے رانے لوگوں ہے البتہ ایک بات مجھے اچھی طرح یاد ہے اور میں نے اس کے متعلق بعض پرانے دریافت بھی کیا ہے مگر کسی نے مجھے صحیح جواب نہیں دیا اور وہ یہ کہ اس چبوترے پر دو چھوٹی چھوٹی دریاں بچھا دی گئی تھیں جن پر لوگ بیٹھے تھے یہ بات میری سمجھ میں اب تک نہیں آئی کہ اس وقت کیا ہوا کہ ان دریوں کو بار بار اٹھا کر جگہ بدلی گئی تھی اور کئی بار ایسا ہوا کہ پہلے ایک جگہ دریاں بچھائی جاتیں اور جب لوگ بیٹھ جاتے تو تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے اٹھا کر دریاں اور جگہ بچھادی جاتیں نہ معلوم دھوپ پڑتی تھی یا کوئی اور بات تھی۔ میں اس کے متعلق یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا اور اس وقت سے لے کر اب تک مجھے کوئی ایسا آدمی ملا نہیں جو اس کی وجہ بتا تا۔ مجھے بچپن کے لحاظ سے یہ نظارہ خوب یاد ہے اور ایک تماشا سا لگتا تھا کہ پہلے لوگ ایک جگہ بیٹھے ہیں اور پھر یک دم کھڑے ہو کر دوسری جگہ بیٹھ جاتے ہیں غرض اس وقت احمدیت کی ساری کمائی دو دریوں پر آگئی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس وقت کی تعداد اپنی ایک کتاب " آئینہ کمالات اسلام" میں شائع کی ہے اس کو دیکھا جائے تو معلوم ہو سکتا ہے کہ اس وقت کتنے لوگ جلسہ میں شامل ہوئے پھر جس قدر نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے شائع کئے ہیں وہ سارے ایسے نہیں ہیں جو ایک وقت جلسہ میں شامل ہوئے ہوں