خطبات محمود (جلد 3) — Page 502
خطبات محمود ۵۰۲ جلد سوم لیکن بعض ان سے بھی زائد ضرورتیں ہوتی ہیں جن کو عورت اپنے خاوند پر ظاہر نہیں کر سکتی۔ پس وہ اپنے اس حق سے ایسی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے اس لئے اسلام نے مہر کے ذریعہ عورت کا حق مقرر کیا ہے اور وہ خاوند کی حیثیت کے مطابق رکھا ہے۔ مگر لوگ اتنا مہر باندھتے ہیں کہ بعض اوقات خاوند کی ساری ساری جائداد دے کر بھی وہ مہر پورا نہیں ہوتا اور اس طرح مقدمات ہوتے ہیں اور اب تو عدالتیں ایسے دعووں میں نصف مہر عورت کو دلا دیتی ہیں اور بعض مجسٹریٹ اتنے بڑے بڑے مہروں کو ظالمانہ فعل کہہ دیتے ہیں اور بعض دفعہ مرد کی جائداد سے دلا بھی دیتے ہیں۔ اسی طرح ورثہ ہے لوگ روپے کو اور اور طرح اڑا دیں گے ۔ بیاہ شادیوں پر لٹا دیں گے مگر لڑکیوں کو ان کا جائز حق جو اسلام نے مقرر کیا ہے نہیں دیں گے۔ شادیوں کے وقت اگر کہو کہ اس قدر خرچ نہ کرو تو کہیں گے اگر ہم یہ خرچ نہ کریں تو ہماری ناک کٹ جائے گی۔ مگر جوں ہی لڑکی گھر سے جاتی ہے تو پہلے تو شاید ان کی مصنوعی ناک ہی کٹتی مگر اب چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے بیچ بیچ ان کی ناک کٹ رہی ہوتی ہے یعنی جب سود خوار ان کے پیچھے پیچھے پھرتے ہیں، جب وہ عدالتوں میں مقدمات لئے پھرتے ہیں، جب جائدادیں فرق ہو رہی ہوتی ہیں تو اس وقت حقیقی طور پر ان کی ناک کٹ جاتی ہے ۔ اگر نکاح کے وقت وہ ایسا نہ کرتے تو شاید ان کی ناک کی چونچ ہی کشتی یا نہ کٹتی مگر اب تو سب کی سب کٹ جاتی ہیں۔ لیکن خدا تعالی کا یہ حکم کہ لڑکیوں کو ان کا حق دو وہ پورا نہیں کریں گے اور یوں سب کچھ تباہ و برباد کر لینا گوارا کر لیں گے ۔ مگر خدا تعالی کا احسان ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ پھر ہمیں ان قباحتوں سے بچا لیا جن میں آج مسلمان مبتلاء ہیں گو ابھی یہ تو تھیں کہ ہم میں سے کوئی بھی غلطی نہیں کرتا تاہم ہمارے اندر ایک خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ضرور ہے جو اسلامی تعلیم پر عمل کر رہی ہے اور رسم و رواج کی ان قیدوں سے آزاد ہو رہی ہے ۔ چنانچہ ہماری جماعت میں پہلے بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو لڑکیوں کو ورثہ دیتے تھے لیکن اب تو جب سے پچھلے سال میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنی جماعت کو اس طرف خصوصیت سے توجہ دینے کی ہدایت کی ہے سب نے اقرار کئے ہیں کہ وہ ضرور اسلامی تعلیم کے مطابق لڑکیوں کو ورثہ دیا کریں گے چنانچہ بہت سے لوگ اپنے اقرار کے مطابق ایسا کر رہے ہیں۔ غرض شریعت کا صحیح نمونہ ہماری جماعت میں موجود ہے ۔ گو ابھی پورے طور پر نہیں مگر جتنے حصہ کو پورا کرنے کی ہمیں توفیق ملی