خطبات محمود (جلد 3) — Page 497
خطبات محمود ۴۹۷ جلد سوم بڑی مصیبت پڑگئی حالانکہ اور ہزاروں قسم کی قیدیں جو انہوں نے خود اپنے اوپر لگا رکھی ہیں ان کی وہ پوری پوری پابندی کرتے چلے جائیں گے ۔ مثلاً حقہ کی قید اسلام نے نہیں لگائی بلکہ مسلمانوں نے خود اپنے اوپر لگالی ہے ۔ اب جہاں حقہ نظر آتا ہے دس ہیں آدمی اس کے ارد گرد اکٹھے ہو کر حقہ پینے لگ جائیں گے مگر نماز کے لئے نہیں جائیں گے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دفعہ قادیان میں ایک شخص آیا اور ایک دن ٹھر کر چلا گیا۔ جنہوں نے اسے بھیجا تھا انہوں نے خیال کیا یہ قادیان جائے گا اور وہاں کچھ دن ٹھہر کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں سنے گا وہاں کے حالات دیکھے گا تو اس پر احمدیت کا کچھ اثر ہو گا۔ مگر جب وہ صرف ایک دن ہی گھر کر واپس چلا گیا تو ان بھیجنے والوں نے اس سے پوچھا کہ تم اتنی جلدی کیوں آگئے ۔ وہ کہنے لگا تو بہ کرو جی وہ بھی کوئی شریفوں کے ٹھرنے کی جگہ ہے ۔ انہوں نے خیال کیا کہ شاید کسی کے نمونہ کا اچھا اثر نظر نہیں آیا ہو گا جس سے اس کو ٹھو کر گئی ہوگی۔ انہوں نے پوچھا کہ آخر کیا بات ہوئی جو تم اتنی جلدی چلے آئے ۔ ان دنوں قادیان اور بٹالہ کے درمیان یکے چلا کرتے تھے اس نے کہا میں صبح کے وقت قادیان پہنچا مہمان خانہ میں مجھے ٹھرایا گیا میری تواضع اور آؤ بھگت کی گئی ہم نے کہا سندھ سے آئے ہیں راستہ میں تو کہیں حقہ پینے کا موقع نہیں ملا اب اطمینان سے بیٹھ کر حقہ پئیں گے اور آرام کریں گے ۔ ابھی ذرا حقہ آنے میں دیر تھی کہ ایک شخص نے کہا بڑے مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول کو لوگ بڑے مولوی صاحب کہا کرتے تھے اب حدیث کا درس دینے لگے ہیں پہلے درس سن لیں پھر حقہ پینا۔ ہم نے کہا چلو اب قادیان آئے ہیں تو حدیث شریف کا بھی درس سن لیں۔ حدیث کا درس سن کر آئے تو ایک شخص نے کہا کھانا بالکل تیار ہے۔ پہلے کھانا کھالیں ۔ ہم نے کہا ٹھیک بات ہے کھانے سے فارغ ہو کر پھر اطمینان سے حقہ پئیں گے۔ ابھی کھانا کھا کر بیٹھے ہی تھے کہ کسی نے کہا ظہر کی اذان ہو چکی ہے ۔ ہم نے کہا۔ اب آئے ہیں چلو قاریان میں نماز بھی پڑھ لیتے ہیں ظہر کی نماز پڑھ چکے تو مرزا صاحب بیٹھ گئے اور باتیں وہاں شروع ہو گئیں ۔ ہم نے کہا چلو مرزا صاحب کی گفتگو بھی سن لیں کہ کیا فرماتے ہیں پھر چل کر حقہ ہیں گے۔ وہاں سے باتیں سن کر آئے اور آکر پیشاب پاخانہ سے فارغ ہو کر اطمینان سے بیٹھے اور حقہ سلگایا کہ اب تو سب طرف سے فارغ ہیں اب تسلی سے حقہ پیتے ہیں لیکن ابھی دو کش بھی حلقے کے نہ لگائے تھے کہ کسی نے کہا عصر کی اذان ہو چکی ہے نماز پڑھ لو۔ حلقہ کو اسی طرح