خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 490

خطبات محمود ۹۰ جلد سوم بڑے پادری چھوٹے سے چھوٹے مسلمان مبلغ کے دروازہ پر جاکر سوال کریں گے ۔ ان کو تو خدا تعالٰی نے ہمارا شکار بنایا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ میں ہوا اور اور جالوت ہے میرا شکار جالوت بادشاہ اور حضرت داود گڈریا تھے ۔ شہ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ لوگ مجھے حقیر سمجھتے ہیں اور بے شک میں ایسا ہوں مگر داور کو بھی حقیر ہی سمجھا جاتا تھا مگر خدا تعالیٰ نے جالوت کو اس کا شکار بنا دیا ۔ اسی طرح اللہ تعالٰی اس زمانہ میں شیطان کی حکومت کو میرے ذریعہ سے پاش پاش کر دے گا۔ ہیں یاد رکھو کہ ہماری تمام ترقیاں اور راحتیں اس جماعت کے ساتھ وابستہ ہیں جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتا وہ خدا تعالٰی سے ہرگز برکت حاصل نہیں کر سکتا۔ بے شک دنیا کی مجلسیں زیادہ پر رونق نظر آتی ہیں اور ان کی روشنیاں زیادہ دکھائی دیتی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہ روشنی ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی روشنی ہے جو گل ہونے کے قریب تیز ہو جاتی ہے بے شک اسی برس کا بڑھا خواہ وہ مرہی کیوں نہ رہا ہو ایک پیدا ہونے والے بچہ سے طاقت میں زیادہ ہوتا ہے مگر کون عقلمند کہہ سکتا ہے کہ وہ بچہ کمزور اور بڑھا طاقتور ہے ۔ یقینا وہ بچہ طاقتور اور بڑھا کمزور ہے کیونکہ اس بچہ کی طاقت بڑھے گی اور بوڑھے کی روز بروز گھٹے گی۔ پس جماعت کے دوستوں کو بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خاندان کے افراد کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ساری عزتیں سلسلہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اپنی تمام استعدادوں اور قابلیتوں کو سلسلہ کی ترقی و بہودی کے ں کے لئے لگا دینا ہی ساری ترقیات کا موجب ہے۔ جو اس بات کو بھولتا ہے خدا تعالیٰ بھی اسے بھول جاتا ہے۔ پس بے شک اپنی دنیوی بہبودی کا خیال رکھو مگر اصل یہودی اس میں سمجھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو پیغام لائے ہیں اس کے ساتھ وابستگی قائم رہے اور ہم دوسروں کے لئے نیک نمونہ بنیں اور پھر جو لوگ ہمارے ذریعہ ہدایت حاصل کریں ان کی خدمت کریں۔ الفضل ۳- اگست ۱۹۶۰ء صفحه ۲ تا ۴)