خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 483

خطبات محمود ۴۸۳ جلد سوم اور دوسرا رستہ گزرنے کا نہ ہو اور ہم مجبور ہوں کہ ان میں سے کسی پر پاؤں رکھ کر گزریں تو سراریت گزرنے کانہ ہواور ہم مجور ہو کہ ان میں سے پر رکھ کر تو اس وقت لازما بچہ پر ہم پیر نہیں رکھیں گے کیونکہ وہ ہمارے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکے گا اور پہلوان پر پاؤں رکھ کر گزر جائیں گے کیونکہ وہ ہمارے بوجھ کو برداشت کر سکتا ہے تو عدل اسے تو ا۔ بھی کہتے ہیں کہ جب انسان مجبور ہو جائے دو ظلموں میں سے ایک کے کرنے پر تو چھوٹا ظلم کرے اور بڑے کو چھوڑ دے ۔ اس وقت بعض کمزور مردوں کو بھی کہا جائے گا کہ وہ زیادہ شادیاں کریں خواہ اس صورت میں عورتوں کے حقوق تلف بھی ہوتے ہوں کیونکہ ایسے موقع پر عدل میں ہو گا کہ فَوَاحِدَةً والی شرط کی بجائے مثنی و ثلث و رابع کی شرطوں کو مد نظر رکھا جائے۔ یورپ کے مصنفین نے لکھا ہے کہ عرب کے حالات کے مطابق اس زمانہ میں کثرت ازدواج بہت ضروری تھا کیونکہ ملک کے رسم و رواج اور عورتوں کی کثرت کے باعث ایک سے زیادہ شادیاں کرنے پر مجبور تھے اور یہ ان کا قومی فرض تھا۔ یہ بات کو ادنی ہے مگر ہے بادلیل ۔ دوسرے کسی زمانہ میں جب عورتوں کی کثرت ہو تو اس پر عمل کیا جاسکتا ہے اس وقت فَوَاحِدَةً کی شرط نہیں رہے گی۔ پس اس آیت کے معنے جو میں نے بیان کئے ہیں اگر سمجھ لئے جائیں تو کسی قسم کا اعتراض نہیں رہتا۔ لے فریقین کا تعین نہیں ہو سکا۔ ه نسائی کتاب النکاح باب انکاح الابن امه النساء : ۴ ه النحل : 9 شو الفضل ۲۵ - جون ۱۹۳۸ء صفحه ۴ تا ۷ )