خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 479

خطبات محمود ۴۷۹ جلد سوم نہیں بلکہ ظلم ہے یا مثلاً ایک شخص اپنی بیویوں کو کپڑا دے ایک بیوی کا تو اس میں کرتہ بن جائے اور ایک کا پاجامہ بن جائے یا دونوں کے کرتے یا پاجامے بن جائیں اور ان کا خاوند کے کہ میں نے عدل کیا ہے تو یہ عدل نہیں، قرآن مجید میں یہ نہیں ہے کہ ایک کو پاجامہ دو اور ایک کو کرتہ بلکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ عورتوں کو پور ا لباس دو۔ ایک دوسری صورت اَلَّا تُعَدِلُوا کی یہ بھی ہے کہ قوت مردمی کمزور ہو اور عورت کے حقوق کو انسان پورا نہ کر سکتا ہو ۔ مثلاً ایک شخص ایک بیوی سے سال میں ایک دفعہ جماع کرتا ہے وہ شخص یہ خیال کرے کہ اب عدل ہی ہے کہ دوسری بیوی سے بھی سال بھر میں ایک ہی ۔ دفعہ جماع کیا جائے تو یہ عدل نہیں کہلائے گا بلکہ دونوں پر ظلم کرنے والا سمجھا جائے گا۔ تو قرآن مجید ہمیں عدل کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ فرماتا ہے ان اللهَ يَأْمُرُ يَامُرُ بِالْعَدلِ ہے کہ اللہ تعالی تمہیں عدل یعنی انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ عدل کے منے یہ نہیں کہ دو آدمیوں کو برابر کا حصہ دو بلکہ یہ معنے ہیں کہ ہر شخص کو اس کا حق دو۔ اگر برابر برابر حصہ دینا ہی عدل کے معنے ہوں تو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کون ہے جہاں عدل کرنے کا حکم ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں عدل کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اسے اس کی وحدانیت میں یکتا سمجھا جائے ۔ دو خدا تو ہیں نہیں کہ نصف وحدانیت ایک خدا کو دی جائے اور نصف دوسرے کو۔ اگر خدا کی وحدانیت میں کسی اور کو شریک کیا جائے تو یہ ظلم ہو گا۔ اسی طرح بیویوں کو ان کے اپنے اپنے حقوق دیئے جائیں تو عدل ہے ۔ لوگوں کو یہ وہم اس لئے پیدا ہوا ہے کہ وہ اَلا تَعْدِلُوا کے معنے نہیں سمجھتے اگر میرے ان معنوں کو لیا جائے تو پھر کسی قسم کا اعتراض نہیں رہتا۔ ہمارے ملک میں اس ۸۰ فیصد لوگ ایسے ہیں جو دو عورتوں کو پیٹ بھر کر روٹی نہیں دے سکتے ایسے لوگوں کے لئے فَوَاحِدَةً کا حکم ہے کہ وہ ایک ہی شادی کریں باقی میں فیصدی لوگ رہ جاتے ہیں ان میں سے بھی بعض لوگ عدل نہیں کر سکتے بعض کے قومی جسمانی مضبوط نہیں ہوتے۔ بعض کے جسمانی قوئی تو مضبوط ہوتے ہیں اور اس صورت میں دو یا دو سے زیادہ عورتیں کر سکتے ہیں مگر الگ الگ مکان بیویوں کے لئے نہیں بنا سکتے ۔ حالانکہ شریعت یہ کہتی ہے کہ بیویوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مکان ہونے چاہئیں ۔ ہماری شریعت میں اس قسم کے جھگڑے بہت ہوتے ہیں کہ مرد اپنی بیویوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مکان نہیں بنواتے تو ان معنوں کی رو