خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 440

خطبات محمود جلد سوم شخص آیا اور اس نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ الل! میں ایک شخص کے متعلق سچی بات کہتا ہوں تو وہ گناہ کیسے ہو جاتی ہے ؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر بات سچ نہ ہو تو پھر وہ جھوٹ ہو گا لیکن سچ کہنے میں اس کا نام غیبت ہو گا اور یہ بھی ایک گناہ ہے ۔ سے پس غیبت کے متعلق ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ سچ ہے مگر اسے قول سدید نہیں کہہ سکتے ۔ علاوہ ازیں انسان کے اندر بعض عیوب ہوتے ہیں ان کا کا ظاہر کرنا کرنا گو گو سچ ہو مگر قول سدید نہیں ہو تا جیسے ایک کانے کو کاٹا کہا جائے تو یہ سچ ہی ہو گا مگر قول سدید نہیں کہلائے گا کیونکہ قول سدید کے اختیار کرنے میں غیبت اور طنز دونوں ترک کرنے پڑتے ہیں۔ اور شریعت اسلامیہ میں ھمز اور لمز دونوں منع ہیں چنانچہ غیبت کرنے والے کو ہم کہیں گے کہ وہ سچ بولتا ہے مگر ساتھ ہی ہم یہ بھی کہیں گے کہ وہ ایک گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے۔ ایک طنز کرنے والے شخص کے متعلق کو ہم یہ کہیں گے کہ وہ سچ بولتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہیں گے کہ وہ ایک گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے کیونکہ غیبت اور طنز عمل صالح نہیں اور عمل صالح قول سدید کے ذریعہ ہوتا ہے۔ پس قول سدید اور صداقت میں بڑا فرق ہے۔ قول سدید نیک عمل کو کہتے ہیں مگر ایسا نیک عمل جو نیک موقع پر اور نیک ذریعہ سے کیا جائے اس لئے جہاں اللہ تعالی نے نیکی کا ذکر کیا ہے وہاں عَمِلُوا الصلحت بھی فرمایا ہے یعنی کام بھی نیک ہو اور موقع بھی نیک ہو اور ذریعہ بھی نیک ہو۔ مثلاً نماز ہے سورج چڑھتے یا سورج ڈوبتے نماز نہیں پڑھی جاتی اور جو شخص ان دونوں وقتوں میں نماز پڑھے وہ شیطانی کام کرنے والا قرار پاتا ہے ۔ اب کو نماز نیک عمل ہے مگر چونکہ طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت نماز پڑھنا بے موقع فعل ہے اس لئے وہ عمل صالح نہیں کہلائے گا۔ عمل صالح موقع و محل پر نیک ذریعہ سے کام کرنے کا نام ہے ۔ جیسا کہ کہتے ہیں فلاں چیز فٹ ہے ۔ عمل صالح بھی وہ نیک عمل ہوتا ہے جو موقع کے لحاظ سے فٹ ہو ۔ پس عمل صالح میں غیبت اور طنز شامل نہیں کیونکہ غیبت اور طنز گو صداقت میں شامل ہیں مگر چونکہ یہ دونوں صداقتیں بے موقع ظاہر کی جاتی ہیں اس لئے عمل صالح میں شامل نہیں ہو سکتیں ۔ غرض اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ سچ اختیار کرو بلکہ قول سدید کے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ سچ کے ذریعہ انسان اپنا مستقبل درست نہیں کر سکتا بلکہ مستقبل قول سدید کے ذریعہ درست ہو سکتا ہے ۔ پس ماضی کے نقصانات سے بچنے کے لئے اللہ تعالی نے اس آیت میں یہ علاج بتایا کہ تقوی اختیار کرو اور مستقبل کو درست کرنے ۔ درست کرنے کے لئے قول سدید اختیار کرنے کا