خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 386

خطبات محمود ۳۸۶ جلد سوم جانے سے قبل دعا کرتے کہ اللہ تعالی انہیں ایسی نسل عطا کرے جو شیطان کے اثر سے محفوظ ہو تو بچہ کے پیدا ہونے کے بعد تو وہ اس وہم میں پاگل ہو جاتے کہ شیطان ان کے قریب نہ آجائے اور دھکے دے دے کر اسے دور لے جاتے لیکن وہ کرتے کیا ہیں بچے کو شیطان کی گود میں دے دیتے ہیں حتی کہ وہ خود شیطان بلکہ شیطان کا بھی استاد بن جاتا ہے ۔ پس شریعت نے جو شادی کرنے اور اولاد پیدا کرنے کا حکم دیا ہے اس کا یہی مطلب ہے کہ پہلے قصور اور کوتاہی کی تلافی کی کوشش کی جائے ۔ جب کسی دوست سے ہماری لڑائی ہو جائے تو دوبارہ اس کے گھر پر ہمارا جانا اس غرض سے نہیں ہو گا کہ پہلا جھگڑا اور بھی بڑھ جائے بلکہ مصالحت کی نیت سے ہو گا۔ اسی طرح پہلے خراب نتائج کے باوجود جب یہ حکم ہے کہ شادی کرو تو اس کا مطلب یہی ہے کہ پہلوں کا کفارہ کرو اور کوشش کرو کہ تمہارے ذریعہ ایسی نسل پیدا ہو جو شیطان اور اس کی طاقتوں کو کچل دے ۔ اور وہ انسان جو اس نیت سے شادی کرتا اور پھر اس کے پورا ہونے کے لئے بھی پوری سعی کرتا ہے وہ دنیا کو دوزخ سے جنت میں تبدیل کر دیتا ہے ۔ مگر اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیوں اس قدر گندی دنیا کے موجود ہونے کے باوجود یہ حکم ہے کہ شادی کرو۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ ایک صناع جب ایک چیز بناتا ہے اور اس میں کوئی نقص رہ جاتا ہے تو وہ پھر کوشش کرتا ہے اور پھر کوشش کرتا ہے حتی کہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح تم میں سے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے کہ پہلے گناہ کا کفارہ ہو اور جب تک اس لائن پر نہ چلا جائے شادی کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ ← پس اس تقریب پر میں جماعت کو بالعموم اور اس خاندان کے افراد کو بالخصوص جسے اللہ تعالٰی نے اس زمانے میں اس غرض کے لئے چنا ہے کہ دنیا میں اسلام کو قائم کرے جب رسول کریم اس نے یہ فرمایا کہ جب ایمان آسمان پر اٹھ جائے گا تو ابنائے فارس سے کچھ کچھ لوگ اسے واپس لائیں گے تو یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں تھی بلکہ اپیل تھی ابنائے فارس سے کہ جب ایسا دن آئے تو تمہارا فرض ہو گا کہ اسلام کو واپس لاؤ۔ پس اس اپیل کے جواب میں ابنائے فارس کا فرض ہے کہ وہ دعاؤں کے ذریعہ، کوشش کے ذریعہ، اپنے جذبات کو مارنے کے ذریعہ، غرضیکہ جس طرح بھی ممکن ہو اسلام کو دنیا میں قائم کریں۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اہل بیت اگر اچھے کام کام کریں تو ان کے لئے دوہرا اجر ہے لیکن غفلت کی صورت میں ان کے لئے سزا بھی دگنی ہے۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں اسلام کے نظام میں جو بگاڑ پیدا