خطبات محمود (جلد 3) — Page 360
خطبات محمود ٣٦٠ ۹۳ جلد سوم دنیا کی کوئی چیز بے فائدہ نہیں (فرموده ۲۲- اپریل ۱۹۳۵ء) ۲۲ اپریل ۱۹۳۵ء بعد نماز عصر مسجد مبارک میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جناب چوہدری فتح محمد صاحب سیال ناظر اعلیٰ کا نکاح رقیہ بیگم صاحبہ بنت جناب سید محمود اللہ شاہ صاحب کے ساتھ دو ہزار روپیہ مہر پر پڑھا۔ لے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : یہ وہ خطبہ ہے جو نبی کریم ا نکاح کے موقع پر فرمایا کرتے تھے۔ یہ ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ دنیا کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی حمد ثابت کر رہا ہے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُ ہے یعنی سب تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں اور ہم ان تعریفوں کا اقرار کرتے ہیں۔ بہت سی ایسی چیزیں دنیا میں بیکار نظر آنے والی اور بے غرض و مقصد نظر آنے والی اپنے موقع اور محل پر ایسی ضروری بن جاتی ہیں کہ انسان ان کے بغیر گزارہ ہی نہیں کر سکتا بلکہ میں کہوں گا یہ انسانی دماغ کے تنزل کی علامت ہے کہ وہ کسی چیز کو بے کار قرار دیتا ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے - وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ - سے ہر وہ چیز جو دنیا میں قائم رکھی جاتی ہے اس کے قائم رکھے جانے کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ لوگوں کو نفع پہنچاتی ہے ۔ ہر وہ چیز جو مصر ہو دنیا سے مٹا دی جاتی ہے لیکن جب تک وہ اپنے اندر نفع کی کوئی نہ کوئی صورت رکھتی ہے اللہ تعالٰی اسے دنیا میں قائم رکھتا ہے۔ اس قانون الہی کے ماتحت ہر انسان دنیا میں زندہ ہے یہ چرند پرند زندہ ہیں اور ہر چیز جو اپنی موجودہ حالت پر قائم ہے کوئی نہ کوئی نفع اپنے اندر رکھتی ہے۔ جو انسان مر جاتے ہیں وہ اپنے کام کو پورا کر جاتے ہیں مگر ان کی ہڈیاں مٹی میں مل ل کر اور