خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 345

خطبات محمود ۳۲۵ جلد سوم انسان مومن ہو گا اور صبح کافر، صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر اس وقت میں امید کرتا ہوں کہ اہل فارس میں سے کچھ لوگ ایسے کھڑے ہو جائیں گے جو پھر اس آواز پر جو میری طرف سے بلند ہوئی ہے لبیک کہیں گے پھر ایمان کو ثریا سے واپس لائیں گے۔ ان الفاظ میں رسول کریم نے خالی کر جل نہیں کہا بلکہ دجالی کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اشاعت اسلام کی ذمہ داری رجل فارس پر ہی ختم نہیں ہو جائے گی بلکہ اس کی اولاد پر بھی وہی ذمہ داری عائد ہوگی اور ان سے بھی رسول کریم ال اسی چیز کی امید رکھتے ہیں جس کی امید آپ نے رجل فارس سے کی۔ یہ وہ آواز ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ نے اس ناامیدی کی تصویر کھینچنے کے بعد جس سے صحابہ کے رنگ اڑ گئے اور ان کے دل دھڑکنے لگ گئے تھے ان کے دلوں کو ڈھارس دینے کے لئے بلند کی اور یہ وہ امید و اعتماد ہے جس کا آپ نے ابنائے فارس کے متعلق اظہار کیا۔ میں آج اس امانت اور ذمہ داری کو ادا کرتا ہوں اور آج ان تمام افراد کو جو رجل فارس کی اولاد میں سے ہیں رسول کریم اس کا یہ پیغام پہنچاتا ہوں۔ رسول کریم ﷺ نے امت محمدیہ کی تباہی کے وقت امید ظاہر کی ہے کہ لَنَا لَهُ رِجَالٌ مِّنْ فَارَس اور یقین ظاہر کیا ہے کہ اس فارسی النسل موعود کی اولاد دنیا کی لالچوں، حرصوں اور ترقیات کو چھوڑ کر صرف ایک کام لئے اپنے آپ کو وقف کر دے گی اور وہ کام یہ ہے کہ دنیا میں اسلام کا جھنڈا بلند کیا جائے۔ ایمان کو ثریا سے واپس لایا جائے اور مخلوق کو آستانہ خدا پر گرایا جائے ۔ یہ امید ہے جو خدا کے رسول نے کی۔ اب میں ان پر چھوڑتا ہوں وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔ خواہ میری اولاد ہو یا میرے بھائیوں کی وہ اپنے دلوں میں غور کر کے اپنے فطرتوں سے دریافت کریں کہ اس آواز کے بعد ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ کے اس میں شبہ نہیں کہ اس وقت دنیا اپنی تمام خوبصورتیوں کے ساتھ ننگی ہو رہی ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت خدا تعالیٰ کی حالت نعوذ باللہ اس کوڑھی کی سی ہے جسے گھر سے باہر پھینک دیا گیا ہو ۔ آج دین کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔ بیکے شد دین احمد پیچ خویش و یار نیست ہر کے در کار خود بادین احمد کار نیست اسی طرح فرماتے ہیں۔