خطبات محمود (جلد 3) — Page 328
خطبات محمود ۳۲۸ جلد سوم انکسار کے ساتھ بیعت کرلی اور آخری وقت تک عاشقانہ تعلق رکھا گو ان کے بعد ان کے پس ماندگان میں سلسلہ کے ساتھ اس خصوصیت کا تعلق نہیں ہے مگر اللہ تعالی کے قبضے میں ہے کہ وہ ان کو بھی اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے اور اگر ان میں سے ہر ایک اس بات کی نیت کرے کہ دین کی : خدمت کے لئے بھی کچھ کرنا ہے اور اس پر استقلال ظاہر کرے تو بعید نہیں کہ بڑے بڑے عمدہ نتائج پیدا ہو جائیں۔ سوال نیت کا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے انہیں توفیق عطا فرمائے۔ اس وقت جس نکاح کا اعلان کرتا ہوں وہ عزیز عبد الجلیل صاحب پر میر حامد شاہ صاحب مرحوم کا رضیہ بیگم سید حبیب اللہ شاہ صاحب کے ساتھ ہے سید حبیب اللہ شاہ صاحب کے ساتھ میرے تعلقات دوستانہ بچپن سے ہیں اور یہ تعلقات ہمیشہ ہی اچھے رہے ہیں سوائے شاز و نادر کے اس وقت بھی دوستانہ شکر رنجی سے تجاویز نہیں ہوا۔ وہ آج کل راولپنڈی میں سپرنٹنڈنٹ جیل ہیں ان کی طرف سے منظوری میرے نام آگئی ہے اور لڑکی سے بھی میں نے دریافت کر لیا ہے اس لئے میں یہ نکاح تین ہزار روپیہ مہر پر عزیزہ رضیہ بیگم کی طرف سے منظور کرتا ہوں۔ سید عبد الجلیل صاحب آپ کو بھی یہ نکاح تین ہزار روپیہ مہر پر منظور ہے؟ منظوری کے اقرار کے بعد حضور نے لمبی دعا فرمائی۔ الفضل ۲۴۔ دسمبر ۱۹۳۳ء صفحہ ۵)