خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 324

خطبات محمود ۳۲۴ جلد سوم نہیں کرتی۔ پھر تعلیم پانے والے خود بھی بعض اوقات تعلیم سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ دماغ خراب ہو جاتا ہے پاگل ہو جاتے ہیں صحت خراب ہو جاتی ہے۔ قرآن کریم میں خدا تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ تم یہ دیکھو تم نے کل کے لئے سامان کیا ہے یا تم یہ دیکھو تم نے نہیں بلکہ یہ فرمایا کہ یہ دیکھو کل کے لئے کیا سامان کیا۔ کل کے لئے کچھ نہ کچھ سامان کرنا تو فطرتی بات ہے جو حیوانوں میں بھی پائی جاتی ہے کیڑے مکوڑوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ چیونٹی اور شہد کی لکھی خوراک جمع کر لیتی ہے اور بھی جاندار ہیں جو آئندہ کے لئے اندوختہ رکھتے ہیں۔ اس صورت میں انسان سے یہ سوال کہ اس نے آئندہ کے لئے جمع کیا ہے یا نہیں ایسا موٹا اور اتنا معمولی سوال ہے جو مذہب سے تعلق نہیں رکھتا یہ بات تو حیوانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا جمع کرتے ہو اور کہاں جمع کرتے ہو۔ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے کیا عمدہ بات فرمائی کہ اپنا مال وہاں جمع کرو جہاں چوری کا خطرہ نہیں۔ اہ میں مطلب ہے۔ وَلتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَد - که کا۔ کہ دیکھو تم نے کل کے لئے کیا جمع کیا اور کہاں جمع کیا۔ اگر تم نے اچھی جگہ کوئی چیز جمع کرائی تو وہ چیز بھی اچھی ہو گی اس لئے اصل سوال یہی ہے کہ کہاں جمع کرائی۔ وہ چیز جس کے لئے کوئی خطرہ نہیں وہی ہو سکتی ہے جسے خدا تعالیٰ کے ہاں جمع کرایا جائے ۔ اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم انسان پر کوئی ظلم نہیں کرتے ۔ انسان کوئی نیکی نہیں کرنا کہ ہم اس کا بدلہ بڑھا چڑھا کر نہیں دیتے اس لئے ضروری ہے کہ جب انسان کوئی اہم کام کرنے لگے تو ساتھ کوئی نہ کوئی نیکی بھی کرے۔ صلحاء اور انبیاء کا یہی طریق ہے۔ انسان چونکہ غلطی کر جاتا ہے اس لئے جب وہ کسی کام کے ساتھ کوئی نیکی بھی کرتا ہے تو وہ نیکی تعویذ بن جاتی ہے۔ وہ تعویذ نہیں جو گلے میں ڈالا جاتا ہے بلکہ وہ تعویذ جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایسی نیکی کافر بھی کر سکتا ہے اور اسے بھی اس کا اجر مل جاتا ہے ۔ ابو جہل کی نیکیوں کا نتیجہ ہی عکرمہ ہی عکرمہ تھا۔ جب ابو جہل جہنم میں جانے لگا تو خدا تعالیٰ نے پسند نہ کیا کہ اس کی نیکیاں بھی جہنم میں چلی جائیں ان نیکیوں کو خدا تعالیٰ نے عکرمہ کی شکل میں تبدیل کر دیا اور بدیوں کو جہنم میں ڈال دیا ۔ پس جب انسان کوئی کام کرے تو ساتھ کوئی نہ کوئی نیکی بھی کرے ۔ استخارہ یعنی طلب خیر کا بھی یہی مطلب ہے کہ جب انسان نیکی کرتا ہے تو پھر جو کام وہ کرنا چاہتا ہے اس کے متعلق خدا تعالی کے فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ الفضل ۳- اکتوبر ۱۹۳۳ء صفحه ۶۷۵)