خطبات محمود (جلد 3) — Page 307
خطبات محمود جلد سوم کے بعد گور نر یمن کے نام شاہ ایران کا ایک خط آیا جسے دیکھتے ہی اس نے سمجھ لیا کہ کوئی خاص بات ہے کیونکہ مہر نئے بادشاہ کی تھی جب اس نے خط کھولا تو وہ پہلے بادشاہ کے لڑکے کی طرف سے تھا اس میں اس نے لکھا تھا۔ میں نے اپنے باپ کو اس کے ظلموں کی وجہ سے قتل کر دیا ہے اب میں اس کی جگہ بادشاہ ہوں تم سیارے امراء سے میری اطاعت کا اقرار لو ۔ اس وقت معلوم ہوا کہ اسی تاریخ کو ایران کا بادشاہ قتل کیا گیا تھا جس تاریخ کو رسول کریم ﷺ نے فرمایا تھا۔ اس خط میں اس نے یہ بھی لکھا کہ میرے باپ نے بہت سے ظالمانہ احکام دیتے تھے جن میں سے ایک عرب کے مدعی نبوت کے متعلق بھی تھا اس کو بھی میں منسوخ کرتا ہوں۔ شاہ اسی وقت سے یمن کے علاقوں میں اسلام کا نور پھیلنا شروع ہو گیا۔ تو جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے نا ممکن ہے اسے نقصان اٹھانا پڑے ۔ البتہ عارضی نقصان بے شک ہوتے ہیں۔ پس اگر میاں بیوی اپنے تعلقات میں خدا کی رضاء مد نظر رکھیں اور محض اللہ تعالیٰ کے لئے ایک دوسرے سے معاملہ کریں تو ان کے لئے بھی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے مگر جو خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے اور پھر اسے کامیابی نصیب نہیں ہوتی وہ سمجھ لے کہ دو ہی باتیں ہیں یا تو خدا کا قول جھوٹا ہے یا اس کا نفس چھوٹا ہے اور جس چیز کو وہ اطاعت سمجھ رہا ہے۔ اطاعت نہیں۔ کون ہے جو خدا کے کسی حکم کو جھوٹا قرار دے سکے ۔ ہر انسان یہی کہے گا کہ میرے نفس کی غلطی ہے ورنہ اللہ اور اس کے رسول کا فرمودہ بالکل سچا ہے۔ الفضل ۷ ۔ اپریل ۱۹۳۱ء صفحہ ۶۷۵) ا فریقین کا علم نہیں ہو سکا ه ال عمران : 111 البقرة : ١٣٢ ه الفرقان : ۷۵ شه البقرة : ۱۲۵ له النحل : ۹۴ كم الفاتحة : ٢ شو الفاتحه : ۵ ه الاحزاب : ۷۲ شاه طبری جلد ۳ صفحه ۱۵۷۲ تا ۱۵۷۴ مطبوعہ بیروت