خطبات محمود (جلد 3) — Page 291
خطبات محمود ۲۹۱ جلد سوم نگرانی کا محتاج نہ ہو جس پر سستی طاری نہ ہوتی ہو اور جس کی صفات دوسروں کے فائدہ کے لئے جاری ہوتی ہوں۔ انسان کی یہ فطرت خدا تعالیٰ کی ہستی پر شاہد اور دلیل ہے ہاں اسکے عکس اور ظل کے طور پر جب انسان اپنے آپ کو اس کے رنگ میں رنگین کر لیتا ہے تو ایک حد تک وہ بھی کمال حاصل کر لیتا ہے اور ایسے ہی لوگوں کے لئے شاهِدًا کا لفظ قرآن شریف میں استعمال کیا گیا ہے ۔ یعنی وہ بھی نگران ہو جاتا ہے اور حقیقی شاہد ہوتا ہے۔ وہ داروغہ کی طرح نہیں کہ اس پر سب اور سینٹر مقرر کئے جائیں بلکہ وہ شاہد کامل ہوتا ہے اس پر اور نگران نہیں ہوتے۔ اسی لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے ۔ وَمَا أَرْ سَلْنَا مِنْ رَسُولِ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ الله ہے کہ ہم انبیاء اس لئے نہیں بھیجتے کہ وہ کسی کی اطاعت کریں بلکہ وہ مطاع بنائے جاتے ہیں وہ چونکہ مظہر صفاتِ الہیہ ہوتے ہیں اس لئے ان پر اور نگران کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ خدا تعالی کی طرف سے مشین کے طور پر کام کرتے ہیں۔ وہ اس لئے کوئی کام نہیں کرتے کہ خدا تعالی دیکھ رہا ہے بلکہ اس خیال کے ماتحت کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس لئے بنایا ہے۔ وہ مبعوث کہلاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں ہدایت خلق کے لئے ہی کھڑا کیا ہے۔ ان کے اعمال کی علت غائی شکریہ ہوتی ہے۔ رسول کریم ﷺ سے حضرت عائشہ نے کہا۔ یا رسول اللہ ! کیا خدا تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف نہیں کر دیئے پھر آپ عبادت میں اس قدر مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ اس پر آپ نے فرمایا - هَل لَّا أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا - سے یعنی میں جو کام کرتا ہوں وہ اس ڈر سے نہیں کرتا کہ اسے نہ کرنے کی صورت میں خدا تعالی گرفت کرے گا بلکہ عبد شکور بننے کے لئے کرتا ہوں۔ تو نبی اور رسول شاہد کامل یا محافظ ہوتے ہیں۔ اور پھر انبیاء اور رسل سے نیچے اتر کر بہترین نگرانی محاسبہ نفس ہے انسان دوسرے کے مال کی حفاظت اور نگرانی میں سستی کر سکتا ہے لیکن اپنے روپیہ پیسہ کی حفاظت سے وہ کبھی غافل نہیں ہو سکتا۔ اس کے ذاتی مفاد اسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کی پوری حفاظت کرے اور اس طرف پوری توجہ دے۔ خدا تعال فرماتا ہے ۔ وَلْتَنْظُرُ نَفْسُ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ - که یعنی اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہا کرو اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے رہا کرو انسان کو محاسبہ سے کبھی غافل نہیں ہونا چاہئے ۔ افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے بعض دوست تور اشنان سومور اثنان" کے مطابق