خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 227

خطبات محمود ۲۲۷ ۶۲ جلد سوم محبت روحانی اور محبت مجازی کا شعلہ فرموده ۲۹ دسمبر ۱۹۲۶ء) ۲۹۔ دسمبر ۱۹۲۶ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مسماۃ ظهورن صاحبہ بنت مکرم منشی محمد مستقیم صاحب ساکن سنور کا نکاح مکرم فضل الرحمن صاحب سامانوی سے بعوض مبلغ اڑھائی صد روپیہ مہر اور مکرم جمیل الرحمن صاحب سامانوی کا نکاح مسماۃ رشیدن صاحبہ بنت مکرم منشی محمد مستقیم صاحب ساکن سنور کے ساتھ بعوض مبلغ دو صد پچاس روپیہ مہر پر پڑھا ہے خطبہ مسنونہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ ان آیات میں اللہ تعالی نے ایک لفظ رقیب استعمال کیا ہے۔ رقیب کے معنے نگران کے بتائے جاتے ہیں مگر نگر ان کے لئے عربی میں ایک اور لفظ شاہد بھی ہے۔ یوں تو تمام زبانوں کے لئے اس کو بطور کلید مانا جاتا ہے کہ ہر ایک لفظ خاص ہی مفہوم کے لئے موضوع ہوتا ہے اور اس زبان میں بالکل اسی مفہوم کے لئے اور کوئی لفظ نہیں ہوتا مگر عربی میں تو یہ بات صریح طور پر ثابت ہے۔ پس رقیب کے معنے صرف نگران یعنی شاہد کے نہیں ہو سکتے ۔ شاہد تو اسے کہتے ہیں جو کسی عمل کے ہو چکنے کے بعد اس کے نتائج کا گواہ ہو اور رقیب اسے کہتے ہیں جو اعمال مبادی کا اس خیال سے نگران ہو کہ عمل کرنے والا ایک خاص طریقے پر چلے اور اس طریقے سے علیحدہ نہ ہو۔ لفظ رقیب کا اردو میں استعمال ان معنوں میں خوب روشنی ڈالتا ہے۔ اردو میں رقیب ایک معشوق کے دو عاشقوں کو کہتے ہیں کیونکہ ہر عاشق معشوق کی دوسروں کے ساتھ روش کو اس خیال سے تاڑتا رہتا ہے کہ اس کی محبت میرے سوا کسی اور سے نہ ہو ۔