خطبات محمود (جلد 3) — Page 176
خطبات محمود ۱۷۶ جلد سوم مگر ان کو قانون نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بعض باتیں استثنائی ہوتی ہیں مگر پھر بھی کثرت سے پائی جاتی جاسکتا۔ ہیں۔ مثلاً لکنت ہے یہ استثنائی امر ہے کیونکہ عام لوگوں کی زبان ایسی نہیں ہوتی لیکن پھر بھی لاکھوں انسان ہوں گے جن کی زبان میں لکنت ہوگی۔ اسی طرح صرف عورت سے بچہ پیدا ہونا استثناء ہے مگر استثناء میں سے بھی استثناء ہے کہ بہت کم مثالیں ملتی ہیں اور مرد کو بچہ پیدا ہونے کی تو کوئی مثال ہی نہیں ملتی ہیں جبکہ اولاد پیدا نہیں ہو سکتی مرد اور عورت کے ملے بغیر تو معلوم ہوا کہ نکاح پر ہر قوم کی ترقی کا دار ومدار ہے۔ میں نے کئی دفعہ اس امر کے متعلق سوچا ہے کہ اگر لوگوں کا کوئی معاملہ ایسا ہے جس پر قوم تصرف رکھے تو وہ نکاح ہے۔ شریعت نے طلاق کے متعلق تو رکھا ہے کہ برادری کے لوگ سمجھائیں اور صلح کرانے کی کوشش کریں کیونکہ طلاق کا اثر قوم پر پڑتا ہے۔ میں نے کئی دفعہ سوچا اور میرے خیال میں آیا ہے کہ نکاح کے معاملہ میں قوم کو بولنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ایسی عورت سے شادی کرلے جس کی وجہ سے قوم تباہ ہو جائے۔ وہ عورت اولاد کو ایسے رنگ میں اٹھائے کہ جو قوم کی تباہی کا باعث ہو اس لئے قوم کو بولنے اور رائے دینے کا حق ہونا چاہئے اس کے نہ ہونے سے بڑے بڑے نقصان ہوتے ہیں۔ جیسے مسلمان بادشاہوں نے ایسے لوگوں کے ہاں شادیاں کر لیں جن میں اسلام نہ تھا مگر ان کی عورتیں خوبصورت تھیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی اولاد اسلام سے بے نصیب ہو گئی کیونکہ مائیں اسلام سے ناواقف تھیں۔ عباسی خاندان اس لئے تباہ ہوا کہ ان بادشاہوں کی اولاد کو اسلام سے اتنا بھی تعلق نہ تھا جتنا یورپ کے دہریوں کو عیسائیت سے ہے۔ ان کے درباروں میں اسلام پر ہنسی اور تمسخر کیا جاتا تھا اور اگر اس کے خلاف کوئی بولتا تو اسے بد تہذیب اور گستاخ قرار دے کر دربار سے نکال دیا جاتا۔ یہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ بادشاہوں نے ایسی عورتوں سے شادیاں کیں جو اسلام سے ناواقف تھیں۔ لیکن اگر یہ رکھا جاتا کہ ان کی شادیوں کے متعلق قوم کو بولنے کا حق ہوتا تو ایسا نہ ہوتا۔ یورپ میں بادشاہوں کے لئے یہ قانون رکھا گیا ہے اور یہ بہت اچھا قانون ہے۔ مثلاً انگلستان میں قانون ہے کہ شاہی خاندان یا اس سے تعلق رکھنے والے لڑکوں کو اجازت نہیں کہ وہ خود بخود شماری کر لیں یوں تو یورپ والے کہتے ہیں کہ ایشیائیوں کی تباہی کا بڑا سبب یہی ہے کہ