خطبات محمود (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 724

خطبات محمود (جلد 3) — Page 3

خطبات محمود جلد سوم لئے پیغام نکاح بھی دیا جاتا ہے تو ان الفاظ میں کہ مجھے اپنی غلامی میں قبول فرمائیے مگر وہ جو نکاح سے پہلے لکھتا ہے کہ غلام بنالو جس دن شادی ہو جاتی ہے اور لڑکی پر قبضہ تو پھر غلام بننے کی بجائے آقا بننا چاہتا ہے۔ لڑکی پر جو حکومت چاہتا ہے وہ تو الگ لڑکی کے والدین کو بھی اپنا غلام اور اپنی خواہشات کا مطیع بنانا چاہتا ہے یہاں تک کہ سسرال ایک گالی ہو گئی ہے اور یہ لفظ حقارت کے اظہار کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ چونکہ انسان اس بات کا محتاج ہے کہ اس کا کوئی ارومددگار ہو، دوست و عملسار ہو، غمگسار ہو، کوئی اس کا پیارا ہو، ان مشکلات کو سوچ کر ان وقتوں کو دیکھ کر پہلے تو اپنی غلامی کا یقین دلاتا ہے اور چاہتا ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو مدعا میں کامیاب ہو اور جو لوگ اس مدعا کے حصول میں خارج نظر آئیں انہیں ایڑی کے نیچے رگڑنا چاہتا ہے ۔ لڑکی والوں کا بھی یہی حال ہے جب تک میاں بی بی آپس میں نہیں ملتے کہیں تو لڑکی کی قابلیت پر زور دیا جاتا ہے، کہیں حسن و جمال کی کیفیت پر، کہیں علم و لیاقت پر، کہیں اس کے اخلاق کی خوبیوں پر ۔ غرض ہر طرح لڑکی کو بے عیب پیش کیا جاتا ہے ۔ لیکن جب لڑکے والا یہ یقین کر کے کہ اب اس سے بہتر لڑ کی کیا ہو گی رشتہ کر لیتا ہے تو پھر وہی لڑکی والا ہے جو کہتا ہے کہ بس یہی لڑکی ہے عیب ہے تو ہم کیا کریں حالانکہ پہلے اس قدر تعریف کی تھی کہ کوئی حد ہی نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ کوئی شخص کسی کے اخلاق اور کسی کی صورت کو نہیں بدل سکتا مگر انسان اپنی زبان پر تو قابو رکھ سکتا ہے۔ پس چاہئے کہ اتنی ہی بات کرے جو فی الواقع ہے بیہودہ لافوں کی کیا ضرورت ہے ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ۔ تقوی اختیار کرد اور ولی مطالب کے حصول کے لئے دھوکا سے کام نہ لو اگر دھوکا کر کے مطلب پا بھی لوگے تو وہ کامیابی عارضی اور بہت سی ناکامی کا موجب ہوگی۔ مظفر و منصور ہونے کی کلید تقوی ہے۔ پس تقوی ہی سے کام لو ۔ چالاکیاں چھوڑ دو ۔ دھوکا رہی کے نزدیک نہ جاؤ ۔ اگر بغیر کسی لاف زنی کے جو اصل معاملہ ہے وہ ظاہر کر دیا جائے تو نہ لڑکی والوں کو شکایت ہو سکتی ہے نہ لڑکے والوں کو کیونکہ جو وعدہ تھا پورا کر دیا ۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے عمارت بنوائی۔ ظہر تک کام کرنے والوں کو ایک دینار دیا۔ پھر دوسرے مزدور لگائے ان سے ظہر سے عصر تک کام کرایا اور وہی مزدوری دے دی۔ پھر اور مزدور لگائے اور ان سے شام تک کام لیا اور انہیں دگنی مزدوری دی ۔ پہلے مزدوروں نے شکایت کی تو ان کو جواب ملا کیا جو وعدہ میں نے کیا تھا وہ تم سے پورا نہیں کیا؟