خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 78

1958ء 78 خطبات محمود جلد نمبر 39 جو گرنے کو تھی ۔ اِس پر اُس برگزیدہ بندے نے اُسے درست کر دیا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ۔ قرآن کریم میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَ 6 اس آیت کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ ان دونوں نے اس بستی میں ایک ایسی دیوار پائی جو گرنے کا ارادہ کر رہی تھی لیکن ہم نے یہ ترجمہ کیا ہے کہ انہوں نے اُس بستی میں ایک ایسی دیوار پائی جو گرنے کو تھی کیونکہ عربی زبان میں آزاد کا لفظ صرف دماغی ارادہ کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ ایسی چیز کے لیے بھی اس لفظ کا کی استعمال کر لیا جاتا ہے جس پر قریب زمانہ میں وہ حالت آنے والی ہو۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ دوسرا شخص ہمارے اس ترجمہ کو کب تسلیم کر سکتا ہے۔ اس کے لیے تو ضرورت تھی کہ جہاں جہاں پہلی کتابوں سے حوالے مل سکتے وہاں وہ حوالے دے دیئے جاتے اور اس کے متعلق ایک اعلیٰ درجہ کا حوالہ موجود تھا۔ چنانچہ ابو منصور تقلبی جو لغت کے مشہور امام ہیں انہوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام فقہ اللغہ ہے۔ اس میں عربی زبان کی باریکیاں بیان کی گئی ہیں۔ اس کتاب میں مصنف نے خاص طور پر پیرِیدُ اَنْ يَنْقَضَ پر بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ ایک دفعہ ہم کچھ لوگ خاندانِ عباسیہ کے ایک وزیر ابوالعباس احمد بن حسین کے دربار میں بیٹھے اُس کی آمد کا انتظار کر رہے تھے کہ ابوخر اس نے جو ایک مشہور ادیب تھا اور دل سے اسلام کا منکر تھا اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کیا کسی عرب نے کسی عقل نہ رکھنے والی چیز کے بارہ میں بھی کبھی کہا ہے کہ اُس نے ارادہ کیا؟ میں نے کہا عرب بعض دفعہ ایک غیر ذی روح چیز کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ اس نے یوں کہا جیسے مثال مشہور ہے کہ امْتَلأَ الْحَوْضُ فَقَالَ قَطْنِي یعنی حوض بھر گیا اور اُس نے کہا بس بس ۔ حالانکہ حوض بولتا نہیں ۔ اُس نے کہا میں قول کا ذکر نہیں کرتا۔ تم یہ بتاؤ کہ کیا عقل نہ رکھنے والی اشیاء کی نسبت بھی کبھی ارادہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے؟ اُس کی غرض یہ تھی کہ آیت يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَ پر اعتراض کرے کہ کیا کبھی دیوار بھی گرنے کا ارادہ کیا کرتی ہے؟ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے میری مدد کی اور عرب کے شاعر الراعی کا یہ شعر میرے ذہن میں آ گیا جو میں نے اُس کے سامنے پڑھا فِي مَهْمَةٍ فَلِقَتْ بِهِ هَامَاتُهَا فَلْقَ الْفُؤُوسِ إِذَا أَرَدْنَ نُصُولًا 8 یعنی ایک جنگل میں اُس قوم کی کھوپڑیاں اس طرح توڑی گئیں جس طرح کلہاڑا جب چلنے کا