خطبات محمود (جلد 39) — Page 71
1958ء 71 خطبات محمود جلد نمبر 39 اللہ تعالیٰ نے ایک گر بتایا ہے جس سے پتا لگ سکتا ہے کہ انسان سچا ذکر کر رہا ہے یا نہیں ۔ فرماتا ہے سچے ذکر کی علامت یہ ہے کہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تم جب بھی ذکر کثیر کرو گے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ دشمن کے مقابلہ میں تمہیں فتح ہو گی اور اُس کو ذلت اور شکست نصیب ہو گی کیونکہ اس سے پہلے اِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً میں دشمن کا ہی ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جب دشمن کے مقابلہ میں تم کھڑے ہو تو استقلال کے ساتھ اُس کا مقابلہ کرو۔ اس وقت ہمارا سب سے بڑا دشمن عیسائیت ہے جس کے ساتھ دہریت بھی مل گئی ہے اور احمدی جماعت کے سوا کوئی اس کا مقابلہ نہیں کر رہا۔ آجکل تلوار کی لڑائی نہیں بلکہ آجکل مذہب میں دجالیت اور وسوسہ اندازی کی جاتی ہے اور تبلیغی ہتھیاروں سے ہمیں اس کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ پس ہے فرماتا ہے إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً اے مومنو! جب تم کسی جماعت کے مقابلہ میں آ جاؤ جیسا کہ ہم اس وقت ایک جماعت کے مقابلہ میں آئے ہوئے ہیں یعنی عیسائیت اور دہریت کے مقابلہ میں ۔ تو فاثبتوا تم ثابت قدم رہو۔ یہ نہ ہو کہ کچھ مدت کام کرنے کے بعد تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے۔ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ اور اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرو تا کہ تمہیں کامیابی حاصل ہو۔ پھر فرماتا ہے وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَ تَذْهَبَ رِيحُكُمْ 2 تم تنازع مت کرو ورنہ تمہاری طاقت کمزور ہو جائے گی۔ دنیا میں بعض لوگ تنازعہ تو کرتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ ہم تنازعہ نہیں کرتے بلکہ ہم اپنا حق لے رہے ہیں ۔ جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب منافقوں کو یہ کہا جائے کہ تم مومنوں کی طرح ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ کیا ہم بھی سفہاء بن جائیں؟ یہ تو سفہاء ہیں جو ایمان لے آئے ہیں ۔ 3 تو جو اسی طرح بعض دفعہ جب تنازعہ کرنے والے کو کہا جاتا ہے کہ تم تنازعہ نہ کرو تو کہتا ہے میں تو اپنا حق مانگتا ہوں، میں تنازعہ تو نہیں کرتا ۔ فرماتا ہے کہ ہم تمہیں ایک ایسا ثبوت دیتے ہیں جس سے تمہیں پتا لگ جائے گا کہ کوئی حق مانگ رہا ہے یا نہیں۔ فرماتا ہے تنازعہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور قوم کا رعب جاتا رہتا ہے۔ پس اگر تمہارے اختلاف کے نتیجہ میں تمہارے اندر بزدلی پیدا ہواور تم دشمن کے مقابلہ میں کوتاہی کرنے لگ جاؤ تو سمجھ لوکہ تم اپنا حق نہیں