خطبات محمود (جلد 39) — Page 59
1958ء 59 خطبات محمود جلد نمبر 39 چھوڑ آیا ہوں ۔4 اب بظاہر اس قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر نے بھی وہی محاورہ استعمال کیا ہے جس کا ذکر حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے مگر آپ نے اسے نیک رنگ میں استعمال کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب حضرت ابوبکر نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے رسول کو بھی ملا لیا تو اس فقرہ کے معنے بدل گئے کیونکہ رسول کا وجود تو خیالی نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ کے متعلق اور جنت کے متعلق تو بعض لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ اُن کا وجود خیالی ہے لیکن رسول کے متعلق کوئی یہ خیال نہیں کرتا کہ اُس کا وجود خیالی ہے۔ پس جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ رسول کا لفظ ملا لیا تو گویا آپ نے اس امر کا اظہار کیا کہ میں اللہ کا لفظ حقیقی طور پر استعمال کر رہا ہوں، محض خیالی طور پر استعمال نہیں کر رہا۔ تو محسن بنا کر یعنی شریعت کے تمام احکام کی پیروی کرنے کی کوشش کر کے انسان اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی معیت کا مستحق یث میں آتا ہے حسن وہ ہے کہ جب وہ نماز پڑھے تو وہ یہ محسوس کرے کہ وہ خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ اور اگر وہ یہ محسوس نہ کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے تو کم سے کم وہ یہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے۔ 5 تو و الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ کے یہ معنے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو اپنی نمازوں میں خدا تعالیٰ کا ایسا تصور قائم کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا وجود اُن کے سامنے آ جاتا ہے۔ جب وہ عارضی طور پر ( کیونکہ بندہ ہے ہی عارضی اور فانی ) خدا تعالیٰ کو اپنے سامنے لاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ چونکہ مستقل وجود ہے اس لیے وہ مستقل طور پر ان کو اپنی نگاہ میں رکھتا ہے اور ہمیشہ اُن کی مدد کرتا ہے کیونکہ وہ ازلی ابدی ہے۔ انسان کے لیے اُس نے صرف یہ فرمایا ہے کہ نماز میں تم ایسا تصور کرو کہ خدا تعالیٰ کا وجود تمہارے سامنے آ جائے اور اپنے لیے فرمایا کہ ہم مستقل طور پر یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تمہاری مدد کریں گے کیونکہ ہمارا وجود مستقل ہے۔ اس طرح اس آیت میں گر بتا دیا گیا ہے کہ کسی طرح اللہ تعالی کی معیت کاملہ انسان کو حاصل ہو سکتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تحریر آپ کی ایک نوٹ بک میں درج تھی جسے بعد میں میں نے اخبار بدر 11 جنوری 1912 ء میں چھپوا دیا تھا۔ اُس میں آپ نے تحریر فرمایا ہوا تھا کہ لوگ کہتے ہیں میں خدا تعالیٰ کو چھوڑ دوں اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے میں اُسے بھول