خطبات محمود (جلد 39) — Page 340
1959ء 340 خطبات محمود جلد نمبر 39 اسی طرح کھاد سے بڑا فائدہ ہوتا ہے مگر اب چونکہ مصنوعی کھاد کا رواج زیادہ ہو گیا ہے اس لیے گورنمنٹ بھی اور زمیندار بھی اس کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں حالانکہ امریکہ نے لمبے تجربات کے بعد معلوم کیا ہے کہ مصنوعی کھاد میں اگر جانور کی کھاد یا نباتاتی کھا د نہ ملائی جائے تو وہ بہت نقصان پہنچاتی ہے۔ میں نے جلسہ سالانہ پر بتایا تھا کہ نباتاتی کھاد کے لحاظ سے امریکہ کے تجربہ کے مطابق سورج مکھی بہترین خیال کی گئی ہے مگر سورج مکھی جون یا جولائی میں بوئی جاتی ہے اور اس کا فائدہ اگلے سال ہی ہو سکتا ہے کیونکہ اس سال تو لوگوں نے بوئی نہیں۔ اس لیے ان کو برسیم یا کسی اور چیز سے جسے انہوں نے بویا ہو فا ئدہ اٹھانا چاہیے یا جانوروں کی کھاد سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہمارے ہاں سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ کھاد اوپلوں کی صورت میں عورتیں جلا دیتی ہیں حالانکہ روایتوں میں آتا ہے کہ اوہلے جلانا قوم کی ذلت کی علامت ہے 3 تو او پلے جلانا درست نہیں لکڑی کا استعمال کرنا چاہیے۔ اصل میں جب گھر میں اوہلے جلانے کے لیے میسر آ جاتے ہیں تو لوگ درخت اُگانے کی طرف زیادہ توجہ نہیں دیتے اور اس طرح ملک کو نقصان پہنچتا ہے۔ ملک اس سال شروع میں قیاس کر لیا گیا تھا کہ فصل بڑی اچھی ہو گی کیونکہ شروع میں بڑی اچھی کر لیا تھا ہوگی بچھی ہوئی کیونکہ شروع میں بڑی اچھی ہوئی کہ ہوگی بارش ہو گئی تھی لیکن یہ پتا نہیں تھا کہ بارش اس قدر زیادہ ہو گی کہ فصل خراب ہو جائے گی۔ چنانچہ پہلے تو فصل کے متعلق بڑی خوشکن خبریں آتی رہیں لیکن اب پھر یہ کہا جا رہا ہے کہ بارش زیادہ ہونے کی وجہ سے بعض علاقوں کی فصل خراب ہو گئی ہے اور چنا تو بالکل مارا گیا ہے مگر خدا تعالیٰ نے کل اور آج دھوپ لگا دی ہے۔ اگر دس بارہ دن اور متواتر دھوپ لگ گئی تو خیال ہے کہ فصلیں دوبارہ کھڑی ہو جائیں گی لیکن یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ دھوپ نہ میں نکالتا ہوں، نہ تم نکالتے ہو، نہ گورنمنٹ نکال سکتی ہے، دھوپ خدا تعالیٰ نکالتا ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ سے ہی دُعا کرو اور اُس وقت تک اپنی آمدنی کے اندازے نہ لگایا کرو جب تک وہ واقع میں پیدا نہ ہو جائے ۔ انگریزوں میں ایک مثل مشہور ہے ۔ کہتے "There is many a slip between the cup and the lip' ہیں کوئی امیر آدمی چائے پینے بیٹھا تو چائے کی پیالی ابھی رکھی ہی تھی کہ اُس کی زمینوں کا منیجر آ گیا اور اُس نے کہا صاحب! ایک جنگلی سور آ گیا ہے۔ وہ چائے چھوڑ کر اُس سو رکو مار نے چلا گیا اور بجائے اس کے کہ وہ سور کو مار لیتا جنگلی سور نے اُسے مار دیا اور لوگ اُس کی نعش اُٹھا کر لائے۔ اس لیے یہ مثل مشہور ہوگئی