خطبات محمود (جلد 39) — Page 273
1958ء 273 (32) خطبات محمود جلد نمبر 39 اذان کے الفاظ کو صحیح تلفظ کے ساتھ اور سمجھ کر ادا کرنا چاہیے ربوہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مکانات پیش کریں (فرموده 28 نومبر 1958ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعو ذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج میں دو باتیں کہنی چاہتا ہوں ۔ ایک بات تو مسجدوں کے متعلق ہے اور ایک جلسہ سالانہ کے متعلق ہے۔ آج صبح مجھے اذان کی آواز آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ باوجود اس کے کہ میں نے قادیان میں ہی تاکید کرنی شروع کر دی تھی کہ محلہ والے مؤذنوں کو صحیح طور پر اذان کہنا سکھائیں میری اس ہدایت پر عمل نہیں کیا گیا ۔ قادیان میں یہ نقص تھا کہ مؤذن اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہتے ہوئے ان کے ساتھ ”ن“ کی آواز بھی نکالتے تھے حالانکہ میں نے بتایا تھا کہ عربی زبان میں ”ن ساکن کے بعد ل آ جائے تو نون ل“ میں مدغم ہو جاتا ہے اور لام کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ گویا اَشْهَدُ أَن لَّا إِلهَ إِلَّا اللهُ میں ان لا کی بجائے الا کہا جائے گا۔ آج صبح جو اذان میں نے سنی وہ اس مسجد (مبارک) کی تو نہیں تھی کسی اور مسجد کی تھی میں نے سنا کہ موزن نے اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلهَ إِلَّا الله میں ان کو بالکل ہی اُڑا دیا یعنی وہ اَشْهَدُ لَا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ