خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 250

1958ء 250 خطبات محمود جلد نمبر 39 نہ ملا۔ جب مدینہ کے قریب آ کر فوج مطمئن ہو گئی اور صحابہ آرام کرنے یا کھانا پکانے کے لیے ادھر اُدھر پھیل گئے تو آپ بھی ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے اور تلوار درخت سے لٹکا دی ۔ جب آپ لیٹ گئے تو وہی شخص آیا اور اس نے آپ کی تلوار اُٹھالی اور آپ کو جگا کر کہا کہ بتائیں اب آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسی طرح لیٹے لیٹے نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ فرمایا اللہ ۔ اُس پر اس قدر رعب طاری ہوا کہ اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا وہی تلوار پکڑ لی اور کھڑے ہو گئے اور فرمایا اب تم بتاؤ تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ کہنے لگا آپ ہی رحم کریں تو کریں۔ آپ نے فرمایا کمبخت ! میرے منہ سے اللہ کا نام سن کر بھی تیرے منہ سے اللہ کا لفظ نہ نکلا۔ میں نے اللہ کہا تھا تو بھی اللہ کہہ دیتا۔ وہ نہ کہنے لگا یہ طاقت آپ ہی کی تھی ۔ میرے منہ سے تو اللہ کا لفظ الفظ نہیں نکلتا۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ آپ ہی اگر مجھے چھوڑ دیں تو چھوڑ دیں۔ چنانچہ آپ نے اُسے چھوڑ دیا ۔ 2 تو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی انسان کی کوئی طاقت نہیں۔ سب سے بڑا وہی ہے اور ہمیں ہمیشہ اُسی کے سامنے گرنا چاہیے اور اُس سے درخواست کرنی چاہیے کہ وہ ہماری مدد کرے۔ تمام حکومتیں ، تمام بادشاہتیں، تمام کارخانے ، تمام تجارتیں ، تمام حرفتیں ، تمام بڑے بڑے پیشے سب اُس کے قبضہ و تصرف میں ہیں، ہر ایک جاندار کی جان اُس کے ہاتھ میں ہے۔ جس کو چاہے زندہ رکھے اور جس کو چاہے مار دے۔ کسی انسان کی طاقت میں نہیں کہ اُس کا مقابلہ کر سکے۔ گزشتہ فسادات کے دنوں میں ہی اللہ تعالیٰ نے ہمارے سلسلہ کی جس رنگ میں تائید فرمائی (جس کی تفصیل بعض پہلے خطبات میں بیان کی جا چکی ہے ) اُس کو دیکھتے ہوئے کون شخص اس امر سے انکار کر سکتا ہے کہ تمام طاقتیں اور قدرتیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہی ہیں اور وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا دیتا ہے ہے ذلت دیتا ہے۔ لیکن اگر باوجود اس کے کہ تمہیں دفعہ اذانوں میں اور قریباً ایک سو دو دفعہ نمازوں میں کہا جاتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے پھر بھی ہم اُس کا دروازہ چھوڑ کر کسی اور کے دروازہ پر جائیں تو یہ ہماری کتنی بڑی بد قسمتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم اتنے احمق ہیں کہ باوجود اس کے کہ بڑے بڑے معتبر آدمی ہمیں بتا دیتے ہیں کہ اس کھانے میں زہر ہے پھر بھی ہم اُس کھانے کو کھا لیتے ہیں۔ ایسے آدمی پر کوئی بھی رحم نہیں کرے گا ۔ جس آدمی کو بڑے بڑے معتبر آدمی کہیں کہ ہم نے فلاں آدمی کو