خطبات محمود (جلد 39) — Page 236
1958ء 236 خطبات محمود جلد نمبر 39 غریب لوگ تھرڈ کلاس میں سفر کرتے ہیں اور اس وجہ سے اُن کے کرایہ پر بہت تھوڑا روپیہ خرچ ہوتا ہے۔ بالعموم چار پانچ روپیہ میں وہ ربوہ پہنچ سکتے ہیں اور چار پانچ روپے اگر قرض لے لیے جائیں تو غریب سے غریب آدمی بھی محنت مزدوری کر کے آسانی سے اتنا قرض ادا کر سکتا ہے۔ اسی کی طرح عورتوں کو چاہیے کہ وہ کفایت سے اپنے گھروں کے اخراجات پورے کریں تا کہ کم از کم اتنار و پیہ ان کے پاس بچ جائے جس سے وہ جلسہ سالانہ پر آ سکیں۔ لوگوں میں عموماً یہ شوق پایا جاتا ہے کہ وہ جلسہ سالانہ پر آپ بھی آتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں کو بھی ساتھ لاتے ہیں۔ اسی طرح وہ اپنے ہمسایوں اور دوستوں کو بھی ساتھ لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں جو آخری جلسہ سالانہ ہوا اُس میں سات سو آدمی شامل ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُن کو کو دیکھ کر اتنے خوش ہوئے تھے کہ جب آپ سیر کے لیے باہر نکلے اور چلتے ہوئے لوگوں کی ٹھوکروں کی وجہ سے آپ کے پاؤں سے جوتی بار بار نکل جاتی تو آپؐ نے فرمایا اب تو ہماری جماعت اتنی بڑھ گئی ہے کہ میں سمجھتا ہوں میرے آنے کی غرض پوری ہو گئی ہے۔ ہمارے آنے کی یہی غرض تھی کہ ہم دین کی اشاعت کریں اور اس کے لیے ایک جماعت تیار کر دیں۔ سواب وہ جماعت تیار ہو گئی ہے۔ چنانچہ اسی سال آپ وفات پاگئے ۔ پھر حضرت خلیفہ اول کے عہدِ خلافت میں جو آخری جلسہ ہوا اُس میں اٹھارہ انیس سو آدمی شریک ہوئے۔ اور اس کے بعد قادیان میں جو جلسے ہوتے رہے ان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے شامل ہونے والوں کی تعداد ہر سال بڑھتی چلی گئی۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب بڑے خوش خوش میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے پوری طرح حساب لگا کر معلوم کیا ہے کہ اس سال ہمارے جلسہ میں تئیس ہزار آدمی شریک ہوئے ہیں مگر اب یہ کیفیت ہے کہ پچھلے سال ربوہ میں ستر ہزار آدمی جمع ہوا اور اس سال ہم اُمید رکھتے ہیں کہ اگر جماعت پوری توجہ سے کام لے اور اپنی ذمہ داری کو سمجھے تو ایک لاکھ تک آنے والوں کی تعداد پہنچ جائے گی۔ بلکہ ممکن ہے اس سے بھی بڑھ جائے۔ پس اول تو میں جماعت کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ جلسہ سالانہ پر پچھلے سالوں سے بھی زیادہ آنے کی کوشش کرے اور پھر زیادہ سے زیادہ غیر احمدیوں کو اپنے ہمراہ لانے کی کوشش کرے۔ اسی طرح جو غیر احمدی دوست تشریف لائیں اُن کا خاص طور پر خیال رکھا جائے اور انہیں مرکز سے