خطبات محمود (جلد 39) — Page 227
1958ء 227 (26) خطبات محمود جلد نمبر 39 اللہ تعالیٰ سے ہی دعائیں کرنی چاہیں کیونکہ سب طاقت خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے نہ گورنمنٹ اس بارہ میں کوئی مدد کر سکتی ہے اور نہ کوئی انسان مدد کر سکتا ہے (فرمودہ 12 ستمبر 1958ء بمقام نخلہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ دوزخ دو دفعہ سانس لیتی ہے۔ ایک دفعہ سانس باہر نکالتی ہے تو گرمیاں آجاتی ہیں اور دوسری دفعہ سانس اندر کھینچتی ہے تو سردیاں آجاتی ہیں ۔ 1 یوں تو یہ ایک تعبیر طلب بات ہے مگر اس دفعہ عملی طور پر ایسا ہی ہوا ہے اور اتنی شدید گرمی پڑی ہے کہ برابر اخبارات میں یہ چھپتا رہا ہے کہ فلاں جگہ سو آدمی مر گیا اور فلاں جگہ دو سو مر گیا۔ ہمارے ملک میں ایک دوسو سوتیں بلکہ ایک سو پینتیس درجہ تک بھی گرمی پہنچی ہے۔ یورپ کے لوگ چونکہ ٹھنڈے ملکوں میں رہنے کے عادی ہیں اُن کے ہاں تو اگر معمول سے ذرا بھی زیادہ گرمی پڑنے لگے تو وہ مرنے لگتے ہیں ۔ چنانچہ بعض دفعہ اخبارات میں چھپتا ہے کہ نیو یارک میں اٹھانوے درجہ تک پارہ پہنچ گیا اور دو ہزار آدمی مر گئے ۔ اس لحاظ سے ہمارے ملک میں تو ایک سو بیس یا ایک سو پچیس درجہ حرارت تک دو کروڑ آدمی مرنا دو چاہیے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کے لوگوں کو برداشت کی طاقت دی ہوئی ہے مگر جو بیمار ہیں ان